سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 9 مئی کو شیڈول کیمبرج امتحانات منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر 9 مئی کو شیڈول کیمبرج متحانات منسوخ کردیا ہے۔
کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سےجاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکام، کیمبرج اور برٹش کونسل سے مشاورت کے بعد سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ہماری ترجیح طلبہ اور عملے سے تعاون اور طلبہ کو تعلیم کے میدان میں بہتری کے لیے مدد کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مظفر آباد ،میرپور، اسلام آباد اور پنجاب میں او لیول، آئی جی سی ایس ای، انٹرنیشنل اے ایس اینڈ اے لیول کے 9 مئی کو ہونے والے امتحانات منسوخ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔
کیمبرج نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف 9 مئی کے امتحان کے لیے ہے اور تمام براہ راست کیمبرج اور برٹش کونسل کے اسکولوں پر لاگو ہوگا
مزید بتایا گیا کہ کیمبرج کے 11 مئی کو شام کے وقت شیڈول امتحانات کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا اور اگر سیکیورٹی صورت حال بہتر رہی تو دیگر شہروں میں 9 مئی کو امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
کیمبرج نے کہا کہ کسی بھی تبدیلی کی صورت میں طلبہ کو آگاہ کردیا جائے گا اور جہاں امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں وہاں ہم اپنی مہارت اور بہترین عمل کا استعمال کرتے ہوئے یقینی بنائیں گے کہ ہم شفاف گریڈز دے سکیں تاکہ طلبہ کی ترقی ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مئی کو
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔