پاکستان کی جوابی کارروائی کا خوف، بھارت کے 27ائیرپورٹس بند
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اہم ائیرپورٹس کو 10 مئی تک بند کرنے کا اعلان ، 200سے زائد پروازیں منسوخ
فلائٹ آپریشنز معطل ہونے سے ایئرلائنز کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، ذرائع
پاکستان کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر بھارت میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔بھارتی حکام نے 27اہم ائیرپورٹس کو 10 مئی تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ 200سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب بھارتی فوج نے گزشتہ رات آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفرآباد، باغ، مریدکے اور احمد پور شرقیہ پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 26 پاکستانی شہید اور 46 زخمی ہوئے ، جبکہ 2 مساجد بھی شہید ہوئیں۔پاک فوج نے بھارتی حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کے 3 رافیل طیارے ، ایک سُخوئی، ایک مگ 29 اور ایک ڈرون تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اس جوابی کارروائی کے خدشے نے بھارت کو خوف میں مبتلا کر دیا، جس کے باعث سری نگر، جموں، لیہہ، امرتسر، پٹھان کوٹ، چندی گڑھ، جودھ پور، جیسلمیر، شملہ، دھرمشالہ، جام نگر سمیت 27 بڑے ائیرپورٹس بند کر دیے گئے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق، فلائٹ آپریشنز معطل ہونے سے ایئرلائنز کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ کئی فضائی کمپنیاں عارضی طور پر بند ہو چکی ہیں، اور مسافر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :