علیمہ خان مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی گرفتاری دینے پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
عمران خان کی بہن علیمہ خان مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی گرفتاری دینے پر تیار ہو گئیں۔
ای سی ایل سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا نام نکالنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو کے روبرو ہوئی، جس میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت تارڑ اور ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر پیش ہوئے ۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا نام ڈی آئی جی راولپنڈی پولیس کی سفارش پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا ۔ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں انسدادِ دہشتگردی کے تحت مقدمہ درج ہے۔
علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ نام ای سی ایل میں ہے۔ درخواست گزار سابق وزیر اعظم کی بہن ہیں۔ جناح ہاؤس کیس میں پولیس نے بیان دیا کہ یہ مطلوب نہیں ہیں۔ 4 دن بعد سوشل میڈیا پر 4 مقدمات کے حوالے سے خبر وائرل ہوئی۔ درخواست گزار کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں۔
اس موقع پر علیمہ خان روسٹرم پر آ گئیں اور انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے لیٹر دیا ہے کہ میں اشتہاری ہوں۔ میں یہاں بیٹھتی ہوں، آپ ڈی آئی جی کو بلوائیں مجھے گرفتار کریں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کی لیگل ٹیم کھڑی ہے، جس پر علیمہ خان نے اصرار کیا کہ میں آپ کی کورٹ سے نہیں جاؤں گی جب تک ڈی آئی جی نہیں آتے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ اگر ڈی آئی جی اسلام آباد ہوتے تو میں بلا لیتا، یہ پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ علیمہ خان اسلام آباد کے کسی کیس میں مطلوب ہیں ؟
عدالت نے کہا کہ آپ درخواست گزار کو درست معلومات نہیں دے رہے۔ آپ نے پولیس کو پارٹی نہیں بنایا۔ اپنے کلائنٹ کو مکمل معلومات دیں ۔ ہم نے ایک ہفتے میں آپ کی ساری پٹیشن سنی ہے ۔
علیمہ خان نے کہا کہ ابھی صرف پنجاب پولیس نے مطلوب بنایا ہے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ میری ایک ذمے داری ہے جو ادا کرنی ہے۔ میں نے کہا ہے ڈی آئی جی کو بلائیں مجھے گرفتار کر لیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے نے ریمارکس دیے کہ 26 ویں ترمیم کے بعد جس چیز کی استدعا آپ نے درخواست میں نہیں کی ، وہ ہم نہیں کر سکتے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم آپ کی آزادی کے لیے کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست گزار اسلام آباد علیمہ خان ڈی آئی جی نے کہا کہ کی بہن
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔