اگر بھارت پاک فضائیہ کے پائلٹ کو پکڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے تو سامنے لائے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت دعویٰ کر رہا ہے پاکستان نے میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے تو ثبوت سامنے لائے، اگر بھارت پاک فضائیہ کے پائلٹ کو پکڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے تو سامنے لائے۔
غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے لائن آف کنٹرول پر دونوں اطراف نقصان کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سےآرٹلری، مارٹر اور دیگر بڑے ہتھیاروں سے گولہ باری کی جا رہی ہے، بدقسمتی سے بھارت جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جوابی کارروائی میں پاکستان بھارت کے ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہا ہے، ایل او سی پر موجود بھارتی چوکیوں کی بات کر رہا ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایل او سی سے بھارتی فوج معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، پاکستان اپنے دفاع میں چھوٹے ہتھیاروں سے بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنا رہا ہے، پاکستان نے ڈرون یا راکٹ حملہ بالکل بھی نہیں کیا، بھارت کا من گھڑت پروپیگنڈا بالکل بے بنیاد ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔
پاکستان بھارتی جارحیت کا اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے: اسحاق ڈار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 21ویں صدیں کی جنگوں میں ہدف کو نشانہ بنایا جائے تو واضح ثبوت ہوتے ہیں، بھارتی میڈیا بغیر ثبوتوں کے جھوٹی کہانیاں بنا کر دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے، جب پاکستان اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا تو دنیا دیکھے گی، پاکستان دفاع میں کارروائی کرے گا تو بھارتی میڈیا کو بتانےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس پہلگام حملے سے متعلق پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، دہشت گردی واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھارتی چالوں کو روکنا ہو گا، پہلگام واقعے پرحکومت پاکستان نے بھارت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش سے راہ فرار اختیار کی، بھارت نے پہلگام حملے کا کوئی ثبوت دیے بغیر 6 مقامات پر مساجد، عبادت گاہوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
بھارتی ڈرونز سے پاکستانی فوجی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا: وزیر دفاع
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حملے میں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، بھارت نے جہادی تنظیموں کی موجودگی کا بوسیدہ بیانیہ دہراتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان بھارت کے بےبنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، پاکستان غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے مستند شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، بھارت پہلگام کےحملہ آوروں کو پاکستان سے جوڑ رہا ہے تو اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ بھارت کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عدالت،جج اور جلاد بھی خود ہی بن جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کو نشانہ بنا پاکستان نے کر رہا ہے نے کہا کہ کہ بھارت ایس پی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔