پاک بھارت کشیدگی: کیا اے ٹی ایم اور آن لائن بینک سروس واقعی متاثر ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حمایت سے ایک فیصلہ کن اقدام میں نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی) نے ملک بھر میں اے ٹی ایمز کے مبینہ طور پر بند ہونے اور آن لائن بینکنگ سروسز میں رکاوٹوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی افواہوں سے نمٹنے کے لیے ایک ایڈوائزری شیئر کی ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور تمام بینکنگ انفرا اسٹرکچر بشمول اے ٹی ایم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم آسانی سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں، ایڈوائزری میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل مالیاتی نظام مضبوط اور محفوظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ایک سرکاری پبلک ایڈوائزری میں، نیشنل سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانیوالے خطرناک پیغامات بے بنیاد ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
’بینکوں اور مختلف مالیاتی اداروں کے اندر سائبرسیکیوریٹی ڈویژنز تندہی سے اپنے سسٹمز کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہیں کسی قابل اعتبار سائبر خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جو اے ٹی ایمز کی فعالیت یا آن لائن بینکنگ آپریشنز کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:
سی ای آر ٹی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر سرکاری چینلز کے ذریعے گردش کرنے والی کسی بھی غیر تصدیق شدہ معلومات کو نظر انداز کریں اور اس کے بجائے براہ راست اپنے متعلقہ بینکوں یا سرکاری سرکاری ذرائع سے درست معلومات حاصل کریں۔
اسٹیٹ بینک تمام مالیاتی خدمات کی سلامتی اور لچک کو مسلسل تقویت دینے کے لیے سی ای آر ٹی کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں:
ایڈوائزری کے ذریعے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اے ٹی ایم کے استعمال اور آن لائن لین دین کرتے وقت الرٹ رہیں اور حساس مالیاتی معلومات جیسے سیکیورٹی کوڈ، ون ٹائم پاس ورڈز اور اکاؤنٹ کے پاس ورڈز وغیرہ کسی سے بھی شیئر نہ کریں۔
عوام سے مزید تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک ڈیوائس یا اٹیچمنٹ کے لیے اے ٹی ایم کا بغور معائنہ کریں، ای میل یا سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہونے والے غیر تصدیق شدہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں، اور ہمیشہ یہ یقینی بنائیں کہ وہ اپنے آن لائن بینکنگ سیشنز کو ختم کرنے کے بعد مکمل طور پر لاگ آؤٹ کریں۔
مزید پڑھیں:
قومی مالیاتی سائبر سیکیورٹی کو مزید بڑھانے کے لیے، سی ای آرٹی نے کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ممکنہ دھوکہ دہی کے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے واضح ہدایات بھی فراہم کی ہیں، شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے بینکوں سے رابطہ کریں اور باضابطہ طور پر اس نوعیت کے واقعات کی رپورٹنگ فارم یا ای میل کے ذریعے باضابطہ اطلاع دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن ایڈوائزری اے ٹی ایمز بینکنگ آپریشنز سائبر سیکیورٹی سوشل میڈیا سی ای آرٹی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ایڈوائزری اے ٹی ایمز سائبر سیکیورٹی سوشل میڈیا سی ای ا رٹی سوشل میڈیا اے ٹی ایم کے ذریعے آن لائن ہیں اور سی ای ا کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور