پی ڈی پی کی صدر نے بھارت اور پاکستان کے بیچ بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور دونوں ممالک سے بات چیت کی اپیل کی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق خاتون وزیراعلٰی محبوبہ مفتی جمعہ کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت رو پڑی جب انہوں نے سرحد پر جاری کشیدگی کے بیچ شہری ہلاکتوں خاص کر بچوں کی اموات کا ذکر کیا۔ محبوبہ مفتی نے بھارت اور پاکستان کے بیچ بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور دونوں ممالک سے بات چیت کی اپیل کی۔ محبوبہ مفتی نے لائن آف کنٹرول پر ہو رہی شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ پریس کانفرنس کے دوران محبوبہ مفتی نے پُرنم آنکھوں کے ساتھ سوالیہ انداز میں کہا کہ سرحدوں پر ہلاکتیں افسوسناک ہیں، ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے جو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ فوری تحمل اور بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے دانشمندی کا مظاہرہ کرنا از حد ضروری ہے۔

اس دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی جذباتی ہوئیں اور سوال کیا کہ بے گناہوں کو کیوں مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کی موجودہ رفتار کے عالمی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خطے بدحالی کے شکار ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پوری دنیا افراتفری کی طرف گھسیٹ سکتی ہے۔ سرینگر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران محبوبہ مفتی نے ماضی کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ کے بعد ہم سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، اب پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس صورتحال سے مقامی آبادی کے مصائب کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے لوگ ہی ہیں جو درمیان میں پِس رہے ہیں، بھگت رہے ہیں، اگر ایٹمی تنازعہ چھڑ جاتا ہے تو جیت کا دعویٰ کرنے کے لئے کون زندہ بچ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان