بھارتی عسکری تجزیہ کار اور فورس میگزین کے ایڈیٹر پراوین سواہنی نے نریندر مودی کی پاکستان پر حملے کی پالیسی پر ویڈیو بنائی تو بھارتی حکومت نے اُسے بلاک کردیا۔

پراوین سواہنی نے ایسا کیا کہا تھا کہ بھارتی حکومت کو اُن کی ساڑھے 11 منٹ کی ویڈیو اپنے ہی ملک میں بلاک کرنا پڑگئی۔

ویڈیو میں دراصل بھارتی عسکری تجزیہ کار نے فارن سیکریٹری کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا، اور بھارتی حملے کے نقصانات واضح طور پر بیان کیے۔

عسکری تجزیہ کار نے کہا کہ فارن سیکریٹری نے میڈیا کے روبرو بھارتی فضائیہ کا ذکر نہیں کیا، اس کی وجہ جموں و کشمیر میں 3 بھارتی ایئرفورس کے طیاروں کا ملبہ موجود تھا جسے بھارتی کمانڈوز نے گھیر رکھا تھا جبکہ ایک طیارہ بھٹنڈہ کے قریب گرکر تباہ ہوا، جس میں ایک ہلاک اور 9 زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 4 طیاروں کی تباہی کی بات کررہے ہیں، ان طیاروں کی نوعیت پر فارن سیکریٹری کو بات کرنی چاہیے تھی لیکن یہ پوری بات ہی اپنی گفتگو میں نظر انداز کرگئے، جب کہ انہیں طیارے گرانے سے متعلق پاکستانی دعووں کا جواب دینا چاہیے تھا، ہم پاکستانی فضائیہ کے دعووں کو دیکھیں تو انہوں نے وہ کردکھایا، جو وہ کرنا چاہتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی کی ویڈیوز میں کہہ چکا ہوں کہ بھارتی فضائیہ نے اگر پاکستانی حدود کو توڑا تو دوسری طرف سے سخت ردعمل آئے گا، جس کے بعد صورتحال تصادم کی شکل اختیار کرلے گی، ایسا 2019ء میں بھی ہوا تھا۔

عسکری تجزیہ کار نے مزید کہا کہ بھارتی فضائی طاقت اپنا رعب کھو رہی ہے اور فوجی طاقت کمزور ہورہی ہے، یہ سب ہم نے 2019ء اور اب آپریشن سندور میں دیکھ لیا، ہماری کمزوریاں سامنے آرہی ہیں۔

پراوین سواہنی نے کہا کہ فارن سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان کو سزا دی اور ڈرایا۔ لیکن سچ اس سے الٹ ہے، وہ مسلسل آپ کی صلاحیتوں کو جانچ رہا ہے۔

عسکری تجزیہ کار نے کہا کہ ہمیں ایمانداری کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ آپریشن سندور سے کیاحاصل ہوا ؟ اور کیا ضروری تھا؟

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عسکری تجزیہ کار نے فارن سیکریٹری نے کہا کہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان