شمالی اور مغربی بھارت کے 32 ہوائی اڈے 14 مئی تک بند رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی وزارت شہری ہوا بازی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) اور متعلقہ ایوی ایشن حکام نے متعدد نوٹسز جاری کیے ہیں، جن میں شمالی اور مغربی بھارت کے 32 ہوائی اڈوں کو 14 مئی تک عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کے احکام کے مطابق ادھم پور، انبالہ، امرتسر، اونتی پور بھٹنڈا، بھوج، بیکانیر، چندی گڑھ، ہلوارا، ہندن، جیسلمیر، جموں، جام نگر، جودھ پور، کنڈلا، کانگڑا (گگل)، کیشود، کشن گڑھ، کلو منالی (بھونتر)، لیہہ، لدھیانہ، موندرا، نلیا، پٹھان کوٹ، پٹیالہ، پوربندر، راجکوٹ (ہیراسر)، سرساوا، شملہ، سری نگر، تھوئس، اترلائی ہوائی اڈے بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس مدت تک ان ہوائی اڈوں پر تمام سول پروازوں کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
ایئرلائنز اور فلائٹ آپریٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ ایئر ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق متبادل روٹنگ کی منصوبہ بندی کریں، عارضی بندش کا انتظام متعلقہ اے ٹی سی یونٹس کے تعاون سے کیا جا رہا ہے تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور خلل کو کم سے کم کیا جا سکے۔
پاک بھارت کشیدگی، بھارتی نیوز چینل نے غلط خبریں چلانے پر معافی مانگ لی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔