بھارت نے بحری بیڑا شمالی بحیرہ عرب میں کراچی کے قریب تعینات کردیا، برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
بھارت نے اپنا مغربی بحری بیڑا شمالی بحیرہ عرب میں کراچی کے قریب تعینات کردیا۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق بحری بیڑا پاکستانی ساحل سے 300 سے 400 میل کے فاصلے پر موجود ہے۔ کراچی بندرگاہ سے پاکستان کی 60 فیصد تجارت ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیڑے میں ایئر کرافٹ کیریئر، ڈسٹرائرز، فریگیٹس اور اینٹی سب میرین جہاز شامل ہیں، کچھ جہازوں پر براہموس سپرسونک کروز میزائل نصب ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کے پاس قابل فوجی صلاحیت ہے، بھارت کو برتری حاصل کرنا مشکل ہوگا، امریکی ماہر پاکستان اپنے وقار اور سالمیت کی حفاظت ہر قیمت پر کرے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ، 5 شہری شہید، پاک فوج نے کئی بھارتی چیک پوسٹیں اور بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیااخبار کے طابق بھارت کا یہ اقدام دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو نئی بلندیوں تک لے گیا ہے اور بھارت کے اس اقدام سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحری بیڑے کو اس جگہ تعینات کیا گیا ہے جہاں سے پاکستان کے سب بڑی بندرگاہ کراچی کو ہدف بنایا جاسکے۔
دوسری جانب کراچی پورٹ ے مطابق آج بندرگاہ پر 5 جہاز لنگر انداز اور 6 روانہ ہوئے جبکہ 4 جہاز پورٹ کے باہر بندرگاہ پر آمد کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔