بھارت نے پی ایس ایل میں خلل ڈالنے کیلئے پنڈی اسٹیڈیم کو نشانہ بنایا: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارت نے واضح طور پر پی ایس ایل میں خلل ڈالنے کے لیے پنڈی اسٹیڈیم کو نشانہ بنانے جیسی حرکت کی۔ایک بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ پی سی بی ہمیشہ سیاست اور کھیل کو الگ رکھنے کے مؤقف پر قائم رہا ہے لیکن بھارت نےراولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو نشانہ بنانےکی انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی، بھارت نے واضح طور پر پی ایس ایل میں خلل ڈالنے کے لیے ایسی حرکت کی۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے باقی میچز دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، غیر ملکی کھلاڑی ہمارے مہمان ہیں، ان کا ذہنی سکون اولین ترجیح ہے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کو فروغ دینے کے لیے پی سی بی کوشاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایس ایل محسن نقوی بھارت نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :