بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پر انسداد دہشتگردی قانون کے تحت پابندی عائد کردی۔

شیخ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی کا شکار ہیں، جنہیں انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے الزام میں ڈھاکہ سے گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں نیشنل سٹیزنز پارٹی کی قیادت میں طلبہ کا احتجاج، عوامی لیگ پر پابندی کا مطالبہ

حکومتی مشیر آصف نذر نے تصدیق کی کہ پارٹی کی سرگرمیاں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک معطل رہیں گی۔

انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور مظاہرین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ٹربیونل کے مدعیان اور گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے استعفیٰ دینے کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی سربراہی کررہے ہیں۔

حکومت نے ملک کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی، جس سے حکام کو سیاسی جماعتوں اور ان سے منسلک اداروں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری جانب عوامی لیگ نے انتظامیہ کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

یہ پابندی ڈاکٹر یونس کی رہائش گاہ کے باہر ہزاروں لوگوں کی ریلی کے ایک دن بعد لگائی گئی ہے، جو حسینہ واجد کی پارٹی پر پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

عوامی لیگ کے سابق رہنما عبدالحمید بھی زیرتفتیش سے جو ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں ڈھاکا یونیورسٹی میں شیخ حسینہ واجد سے ملتا جلتا ’فاشزم کا مجسمہ‘ نذر آتش

حکام نے بتایا کہ عبدالحمید کے ملک سے بھاگنے کے تناظر میں ہوائی اڈے کی آمد اور روانگی کی نگرانی کے ذمہ دار کم از کم 3 پولیس افسران کو غفلت برتنے پر برطرف کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بنگلہ دیش پابندی عائد سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد عوامی لیگ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پابندی عائد شیخ حسینہ واجد عوامی لیگ وی نیوز شیخ حسینہ واجد عوامی لیگ

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی