لاہور؛ متحرک چور گینگ کی خواتین سمیت 4ملزمان گرفتار، واردات کیسے کرتے تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں متحرک چور گینگ کی خواتین سمیت 4 ملزمان گرفتار کر لیے گئے، ملزمان سے شہریوں کے چوری کیے گئے لاکھوں مالیت کے 4ہزار امریکی ڈالر اور 5لاکھ روپے نقدی برآمد کر لی گئی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ انچارج انویسٹی گیشن تھانہ غالب مارکیٹ ناصر امین نے پولیس ٹیم کے ہمراہ بڑی کارروائی کی۔
گرفتار ملزمان میں خواتین چور اقصٰی، رابعہ اور ان کے ساتھی عاقب اور اسامہ شامل ہیں۔
انچارج ناصر امین کے مطابق ملزمان سے لاکھوں مالیت کے 15عدد موبائل فونز، 14 عدد لیپ ٹاپ اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کر لیا، ملزمان گھروں کی ریکی کرتے اور گھر والوں کی عدم موجودگی میں تالے توڑ کر نقدی اور قیمتی سامان چوری کر کے فرار ہو جاتے تھے۔
پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کے مطابق ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزمان اب پولیس کی گرفت میں ہیں مضبوط چالان مرتب کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
ڈی آئی جی انویسٹی سید ذیشان رضا نے کہا کہ عوم کے جان و مال کے تحفظ کے لیے انویسٹی گیشن پولیس لاہور ہمہ وقت کوشاں ہیں، جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی طرف سے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔