ویمنز ورلڈکپ کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان، پاکستانی کھلاڑی بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
آئی سی سی کی جانب سے ویمنز ورلڈکپ 2025 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ویمنز ورلڈکپ کے فائنل میں حصہ لینے والی چھ کھلاڑیوں کو ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
ان چھ کھلاڑیوں میں سے تین کا تعلق بھارت اور تین کا جنوبی افریقا سے ہے۔ جبکہ آسٹریلیا کی بھی تین کھلاڑی جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
پاکستان کی وکٹ کیپر سدرہ نواز کو وکٹوں کے پیچھے شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔
انگلینڈ کی صوفی ایکلسٹون بھی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا حصہ ہیں جبکہ ان کی ہم وطن نیٹ اسکیور کو بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
ٹیم آف دی ٹورنامنٹ:
سمرتی مندھانا (بھارت)
لورا وولوارٹ، کپتان (جنوبی افریقا)
جمائما روڈریگیز (بھارت)
مریزان کیپ (جنوبی افریقا)
ایشلے گارڈنر (آسٹریلیا)
دیپتی شرما (بھارت)
اینابیل سدرلینڈ (آسٹریلیا)
ناڈین ڈی کلرک (جنوبی افریقا)
سدرہ نواز، وکٹ کیپر (پاکستان)
الانا کنگ (آسٹریلیا)
صوفی ایکلسٹون (انگلینڈ)
نیٹ اسکیور برنٹ، بارہویں کھلاڑی (انگلینڈ)
The #CWC25 Team of the Tournament is IN! ????
More as three trophy-winning heroes of India named ????https://t.
— ICC (@ICC) November 4, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیم آف دی ٹورنامنٹ جنوبی افریقا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔