آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا؟ وی نیوز کے سوال پر فوجی ترجمان نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتا دیا کہ بھارت کے خلاف کیے گئے آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، یہ خواہش بھارت کی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران ’وی نیوز‘ کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپریشن کا نام چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے تجویز کیا تھا؟
اس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان میں اسلام نہ صرف اس کا مذہب ہے بلکہ یہ ان کی تربیت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہمارا نصب العین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’الحمدللہ ہمارے آرمی چیف راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لہٰذا جو لیڈرشپ ہوتی ہے اس کے عقیدہ اور عزم کی جھلک آپریشن میں دکھائی دیتی ہے‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ نام (بنیان مرصوص) بتاتا ہے کہ جو مومنین ہوتے ہیں، اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہوتے ہیں اور وہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ہم آہنی دیوار ہیں، الحمدللہ پاکستان کی افواج نے یہ ثابت بھی کردیا۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ کو بھارت کے مقابلے میں 0-6 سے کامیابی ملی، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد
واضح رہے کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن ’بنیان مرصوص‘ شروع کیا تھا، جس کے بعد بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، اور پاکستان نے اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بناتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن بنیان مرصوص بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان بھارت جنگ ڈی جی آئی ایس پی آر سیز فائر فوجی ترجمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان بھارت جنگ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر سیز فائر فوجی ترجمان وی نیوز بنیان مرصوص پاک فوج
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔