کرکٹر نہیں میں ایئرفورس پائلٹ بنوں گا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
کراچی:
بچپن میں آپ نے ضرور یہ پڑھا ہو گا کہ ’’کوئی کسی دوسرے کیلیے گڑھا کھودے تو خود بھی گر جاتا ہے‘‘ شاید بھارت میں یہ نہیں پڑھایا جاتا،اسی لیے انھوں نے غلط شاٹ کھیل دیا، اچھی خاصی ہماری پی ایس ایل جاری تھی لیکن جان بوجھ کر راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو ڈرون سے نشانہ بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ پاکستانی خوشیوں کو ماند کیا جائے.
جنگ کے ماحول میں بھی ایک دن پہلے ہزاروں شائقین بھرپور انداز میں کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے انھیں کسی بات کا کوئی خوف نہ تھا، یہی بھارت کو بْرا لگا اور اس نے کرکٹ کو نشانہ بناکر اپنی دانست میں بڑا کام کردیا، بھارتیوں نے اس پر بڑی خوشیاں بھی منائیں لیکن پاکستان نے کوئی ڈرون بھیجا نہ کچھ اور لیکن پھر بھی آئی پی ایل رک گئی.
10.1 اوورز کا کھیل ہوا تھا کہ اچانک لائٹس بند کرکے اسٹیڈیم خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا، پلیئرز بھی میچ کٹس میں ہی ایک دوسرے کی ٹیم بس سوار ہو کر بمشکل ہوٹل پہنچے، ایئراسپیس بند ہونے کی وجہ سے انھیں بذریعہ ٹرین دھرم شالہ سے دوسرے شہر پہنچایا گیا،وہاں سے مفت ٹکٹ ملنے کا انتظار کیے بغیر کئی کھلاڑیوں نے ازخود واپسی کی نشستیں بک کرا لیں، یوں پاکستان کے کچھ کیے بغیر صرف خوف سے ہی دنیا کی سب سے بڑی لیگ رک گئی.
پلیئرز ڈر کے مارے رو رہے تھے، چیئرلیڈر کی ویڈیو آپ نے دیکھی ہوگی بیچاری کتنی خوفزدہ تھی،پاکستان میں پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام غیر ملکی کرکٹرز پر واضح کر دیا کہ ہم مکمل ایونٹ کراچی یا پھر دبئی، دوحا کہیں بھی منتقل کر سکتے ہیں.
ویسے تو ہمیں اپنے سیکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد ہے لیکن آپ کا ذہنی سکون بھی ہمارے لیے اہم ہے، فرنچائز اونرز نے بھی ملک کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے وقت میں ایونٹ کو ہی ملتوی کرنے کا مشورہ دے دیا،میرے پاس رات سوا ایک بجے بورڈ کی ایک اعلیٰ شخصیت کی کال آئی اور انھوں نے آئی پی ایل کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کا پوچھا میں نے انھیں بتایا کہ شاید صبح تک لیگ ملتوی ہو جائے.
اس دوران رات گئے پی سی بی نے پی ایس ایل کو یو اے ای منتقل کرنے کا اعلان کیا جبکہ اگلء صبح آئی پی ایل ایک ہفتے کیلیے معطل کر دی گئی، پاکستان نے غیرملکی کرکٹرز و آفیشلز کو خصوصی پرواز سے بحفاظت دبئی بھیجنے کے بعد بھارت کو جو منہ توڑ جواب دیا وہ پوری دنیا نے دیکھا.
دور اندیش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درمیان میں آکر جنگ بندی کرواکر بہترین کام کیا، حالات اب نارمل ہونا شروع ہو چکے ہیں، پی ایس ایل کے بقیہ میچز کا بھی جلد آغاز ہو جائے گا، دبئی میں ہی موجود غیرملکی کرکٹرز کو واپس بلایا جا سکتا ہے، ویسے بھی یہ دسواں ایڈیشن ہے، اس کے بعد ویلیویشن اور کئی اہم کام ہونا ہیں ، نئے معاہدے بھی کیے جائیں گے، لہذا ایونٹ کو زیادہ عرصے تک نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا.
جتنے بھی غیرملکی کرکٹرز دستیاب ہوں ان کے ساتھ بقیہ میچز کرانا مناسب ہوگا، بنگلہ دیش سے سیریز کے بارے میں بھی یہی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ اعلان شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی،یوں ملکی میدان آباد ہی رہیں گے، بھارت کو بھی بھرپور جواب مل چکا اس سے پہلے اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جو بھی کرے گا پاکستان جواب نہیں دے گا لیکن یہ خوش فہمی اب ہوا ہو چکی.
چند گھنٹوں میں ہی اسے حقائق کا علم ہو چکا، بھارتیوں کا تو یہ حال ہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے فلموں اور ویب سیریز کو رجسٹرڈ کرا لیا، اب اکشے کمار جیسے اداکار وی ایف ایکس کی مدد سے پاکستان پر حملے کی جعلی کہانیاں گھڑ کر اپنے لوگوں کو دکھائیں گے اور وہ خوش ہو کر تالیاں بجائیں گے،وہ بھارتی جو جنگ کرو جنگ کرو کے نعرے لگا رہے تھے اپنا دفاعی سسٹم تباہ ہوتے اور سر پر ڈرونز کو منڈلاتے دیکھ کر حقیقت جان چکے ہوں گے کہ جب جنگ ہوتی ہے تو کیسا خوف کا ماحول ہوتا ہے.
آپ لوگ پاکستانی میڈیا کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن اب اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہم بھارت سے کتنے بہتر ہیں، حب الوطنی یہ نہیں ہوتی کہ من گھڑت خبریں پھیلا کر اپنی عوام کو بے وقوف بناؤ، آپ نے کیا کسی پاکستانی چینل پر ایاز خان، جاوید چوہدری، حامد میر، شاہ زیب خانزادہ یا وسیم بادامی کو یہ کہتے سنا کہ ممبئی پر پاکستان نے قبضہ کر لیا یا دہلی کو تباہ کر دیا، وہ حقائق ہی بتاتے رہے.
بھارت میں چینلز نے اتنا جھوٹ پھیلایا کہ ان کے اپنے ہی اب بْرا بھلا کہہ رہے ہیں،وہاں ویسے ہی سچ بولنے پر پابندی ہے، میڈیا یکطرفہ رپورٹنگ کا عادی ہو چکا، جو صحیح بات کرے اس پر پابندی لگ جاتی ہے، سوشل میڈیا پر ہزاروں پاکستانی چینلز و اکاؤنٹس بین ہو چکے،پی ایس ایل فرنچائز لاہور قلندرز کا اکاؤنٹ بھی پابندی کی زد میں آیا لیکن اس نے کوئی اثر نہ لیا.
ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی سمیت کئی اسٹارز نے پاک فوج کی حمایت میں ویڈیوز بھی جاری کیں،بھارتی میڈیا کے لیے اپنی عوام تک جھوٹ پہنچانا بے حد آسان ہے، دنیا بھر میں وہ اب مذاق بن چکا،اسپورٹس صحافی وکرانت گپتا کو پاکستان میں ہمیشہ عزت ملی، افسوس وہ بھی اس جھوٹی مہم کا حصہ بن کر غلط خبریں پھیلاتے رہے، کاش وہ ثنا،سمیع یا کسی اور اپنے پاکستانی دوست سے پوچھ لیتے کہ کیا واقعی کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں ایسا ہو گیا ہے،غیروں سے گلا کیا کریں.
خود اپنے بعض پاکستانی سابق کرکٹرز کا رویہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا جو خاموش تماشائی بنے رہے، حالانکہ یوٹیوب سے ڈالرز آنا بند ہو چکے، آئی پی ایل میں انھیں اب کوئی کام ملے گا نہیں، پھر بھی کوئی آس دل میں لیے وہ چپ رہے، البتہ عوام کا رویہ مثالی تھا،پاک فوج نے جس بہترین انداز میں بھارت کو جواب دیا اس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا.
میں ایک جگہ موجود تھا وہاں کسی نے اپنے بچے سے پوچھا کہ بیٹا تم بڑے ہو کر کون سے کرکٹر جیسا بنو گے، اس کا جواب تھا کرکٹر نہیں میں ائیرفورس پائلٹ بنوں گا،اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے، بھارت نے اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا لیکن ہماری قوم یکجا ہو گئی، مسلح افواج نے ایک بار پھر دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا لیا، یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل پی ایس ایل بھارت کو کر دیا
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز