UrduPoint:
2026-06-03@06:29:14 GMT

امریکہ اور چین دو طرفہ محصولات کی نوے روزہ معطلی پر متفق

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

امریکہ اور چین دو طرفہ محصولات کی نوے روزہ معطلی پر متفق

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2025ء) امریکہ اور چین نے آج 12 مئی بروز پیر 90 دن کے لیے ایک دوسرے پر عائد بھاری تجارتی محصولات (ٹیرفس) میں نمایاں کمی کرنے پر اتفاق کر لیا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے مابین اس اتفاق رائے سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پائی جانے والی بے چینی اور معاشی سست روی کے خدشات میں کمی آنے کی امید ہے۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے مابین پہلی براہ راست ملاقات کے بعد سامنے آئی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ کے آغاز کے بعد عمل میں آئی۔ ان مذاکرات کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے پر لگائے گئے تین ہندسوں والے ٹیرفس کو دو ہندسوں تک لانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

(جاری ہے)

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کو ''نتیجہ خیز‘‘ اور ''جامع‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ''دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے موقف کا احترام کیا۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں چینی تجارتی درآمدات پر 145 فیصد محصولات عائد کر دیے تھے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے یہ شرح 10 فیصد رکھی گئی تھی۔

جواباً بیجنگ نے بھی امریکہ سے چین میں درآمدی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرفس نافذ کر دیے تھے۔

بیسنٹ کے مطابق دونوں ممالک نے ان محصولات میں 115 فیصد پوائنٹس تک کی کمی پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرفس 30 فیصد اور چین کی جانب سے 10 فیصد رہ جائیں گے۔ اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک مستقل مکینزم قائم کریں گے۔

چینی وزارت تجارت نے مذاکرات میں ہونے والی ''نمایاں پیش رفت‘‘ کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک اور دنیا کے لیے مفید قرار دیا۔ اس وزارت کے مطابق، ''ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ یکطرفہ طور پر محصولات بڑھانے کے غلط عمل کو درست کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔‘‘ اس پیش رفت کے بعد امریکی ڈالر، جو اپریل میں ٹیرف پالیسی کے آغاز کے بعد سے دباؤ کا شکار تھا، دوبارہ مستحکم ہوا جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ اور یورپی اور ایشیائی منڈیاں بھی مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔

عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کی سربراہ نگوزی اوکونجو ایویلا نے بھی ان مذاکرات کو ''ایک اہم پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ''موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت نہ صرف امریکہ اور چین بلکہ دنیا کی دیگر بالخصوص کمزور معیشتوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔‘‘ جنیوا میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی، جب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اشارہ دیا تھا کہ وہ چینی درآمدات پر محصولات کو 80 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے وضاحت کی کہ امریکہ یکطرفہ طور پر ٹیرفس میں کمی نہیں کرے گا اور چین کو بھی رعایتیں دینا ہوں گی۔

واضح رہے کہ اس ملاقات سے چند روز قبل صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ ایک غیر رسمی تجارتی معاہدہ کیا، جو کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹیرفس اقدامات کے نافذ کیے جانے کے بعد کسی ملک کے ساتھ کیا گیا پہلا معاہدہ تھا۔

پانچ صفحات پر مشتمل اس غیر پابند معاہدے نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ امریکہ مخصوص شعبوں کے لیے ٹیرفس میں نرمی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، اگرچہ زیادہ تر برطانوی مصنوعات پر 10 فیصد محصولات کو بدستور برقرار رکھا گیا ہے، جو دیگر ممالک کے لیے بھی محصولات کی ایک ممکنہ بنیاد بن سکتا ہے۔

شکور رحیم، اے ایف پی کے ساتھ

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دونوں ممالک کی جانب سے کے مطابق اور چین پیش رفت کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے

دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔

نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔

ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔

مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ

سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کو 13 فیصد، انگلینڈ کو 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کو 10.4 فیصد کے ساتھ ممکنہ ٹاپ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔

 48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری