UrduPoint:
2026-07-24@08:26:56 GMT

امریکہ اور چین دو طرفہ محصولات کی نوے روزہ معطلی پر متفق

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

امریکہ اور چین دو طرفہ محصولات کی نوے روزہ معطلی پر متفق

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2025ء) امریکہ اور چین نے آج 12 مئی بروز پیر 90 دن کے لیے ایک دوسرے پر عائد بھاری تجارتی محصولات (ٹیرفس) میں نمایاں کمی کرنے پر اتفاق کر لیا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے مابین اس اتفاق رائے سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پائی جانے والی بے چینی اور معاشی سست روی کے خدشات میں کمی آنے کی امید ہے۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے مابین پہلی براہ راست ملاقات کے بعد سامنے آئی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ کے آغاز کے بعد عمل میں آئی۔ ان مذاکرات کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے پر لگائے گئے تین ہندسوں والے ٹیرفس کو دو ہندسوں تک لانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

(جاری ہے)

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کو ''نتیجہ خیز‘‘ اور ''جامع‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ''دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے موقف کا احترام کیا۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں چینی تجارتی درآمدات پر 145 فیصد محصولات عائد کر دیے تھے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے یہ شرح 10 فیصد رکھی گئی تھی۔

جواباً بیجنگ نے بھی امریکہ سے چین میں درآمدی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرفس نافذ کر دیے تھے۔

بیسنٹ کے مطابق دونوں ممالک نے ان محصولات میں 115 فیصد پوائنٹس تک کی کمی پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرفس 30 فیصد اور چین کی جانب سے 10 فیصد رہ جائیں گے۔ اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک مستقل مکینزم قائم کریں گے۔

چینی وزارت تجارت نے مذاکرات میں ہونے والی ''نمایاں پیش رفت‘‘ کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک اور دنیا کے لیے مفید قرار دیا۔ اس وزارت کے مطابق، ''ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ یکطرفہ طور پر محصولات بڑھانے کے غلط عمل کو درست کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔‘‘ اس پیش رفت کے بعد امریکی ڈالر، جو اپریل میں ٹیرف پالیسی کے آغاز کے بعد سے دباؤ کا شکار تھا، دوبارہ مستحکم ہوا جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ اور یورپی اور ایشیائی منڈیاں بھی مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔

عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کی سربراہ نگوزی اوکونجو ایویلا نے بھی ان مذاکرات کو ''ایک اہم پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ''موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت نہ صرف امریکہ اور چین بلکہ دنیا کی دیگر بالخصوص کمزور معیشتوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔‘‘ جنیوا میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی، جب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اشارہ دیا تھا کہ وہ چینی درآمدات پر محصولات کو 80 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے وضاحت کی کہ امریکہ یکطرفہ طور پر ٹیرفس میں کمی نہیں کرے گا اور چین کو بھی رعایتیں دینا ہوں گی۔

واضح رہے کہ اس ملاقات سے چند روز قبل صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ ایک غیر رسمی تجارتی معاہدہ کیا، جو کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹیرفس اقدامات کے نافذ کیے جانے کے بعد کسی ملک کے ساتھ کیا گیا پہلا معاہدہ تھا۔

پانچ صفحات پر مشتمل اس غیر پابند معاہدے نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ امریکہ مخصوص شعبوں کے لیے ٹیرفس میں نرمی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، اگرچہ زیادہ تر برطانوی مصنوعات پر 10 فیصد محصولات کو بدستور برقرار رکھا گیا ہے، جو دیگر ممالک کے لیے بھی محصولات کی ایک ممکنہ بنیاد بن سکتا ہے۔

شکور رحیم، اے ایف پی کے ساتھ

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دونوں ممالک کی جانب سے کے مطابق اور چین پیش رفت کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ

اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ