چین اور امریکہ نے محصولات میں نمایاں کمی پر اتفاق کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
چین اور امریکہ نے محصولات میں نمایاں کمی پر اتفاق کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین اور امریکہ کےدرمیان جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے 14 مئی 2025 سے پہلے جن اقدامات کو اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جو اقدامات اختیار کئے جائیں گے،
ان میں اول یہ کہ 2 اپریل 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر میں چین کی مصنوعات (بشمول ہانگ کانگ خود اختیار علاقے اور مکاؤ خوداختیار علاقے کی مصنوعات ) پر عائد محصولات میں ترمیم کی جائے گی ، جس میں ابتدائی 90 دنوں میں 24فیصد ٹیکس کا نفاذ معطل کیا جائے گا جبکہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق 10فیصد ٹیکس برقرار رہے گا۔ دوم یہ کہ چینی مصنوعات پر 8 اور 9 اپریل 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر میں عائد اضافی ٹیکس کو ختم کیا جائےگا۔مشترکہ بیان کے مطابق چین کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے جائیں گے، ان میں اول یہ کہ محصولات میں ترمیم کی جائےگی ،
جس میں ابتدائی 90 دنوں میں امریکی مصنوعات پر عائد 24فیصد ٹیکس کا نفاذ معطل کیا جائے گا، جبکہ ان مصنوعات پر باقی 10فیصد ٹیکس برقرار رہے گا اور چین کے ٹیکس کمیشن کی جانب سے 2025 کےاعلامیہ نمبر 5 اور 6 کے تحت ان مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکس کو ختم کیا جائےگا۔دوم یہ کہ 2 اپریل 2025 سے امریکا کے خلاف کئے گئے غیر محصولاتی جوابی اقدامات کو معطل یا ختم کیا جائےگا۔ان اقدامات کے نفاذ کے بعد، چین اور امریکا ایک میکانزم قائم کریں گے تاکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات پر بات چیت جاری رکھی جا سکے ۔ ضرورت کے مطابق،فریقین متعلقہ اقتصادی و تجارتی امور پر عملی سطح پر بات چیت کر سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کا جناح اسکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا دورہ، تعمیراتی کاموں کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار چین اور امریکا کے ما بین تجارتی مذاکرات اختلافات کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے، چینی وزارت تجارت چین ترقی اور سلامتی کو ہم آہنگ کرنے پر بہت توجہ دیتا ہے ، وائٹ پیپر سی جی ٹی این اور تین لاطینی امریکی تھنک ٹینکس کی جانب سے مشترکہ سروے کے نتائج کا اجراء چین پاک انسداد آفات سرگرمیوں نے جنوب- جنوب تعاون کے لیے “چین پاک حل” پیش کیا ، چینی میڈیا چین عالمی معیشت کی حکمرانی میں ڈبلیو ٹی او کے مزید فعال کردار کی حمایت کرتا ہے، چینی نائب وزیراعظم چین امریکہ مذاکرات میں عملی پیشرفت اور اہم اتفاق رائے طے پا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محصولات میں چین اور
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔