عمران خان کی جنید اکبر کو پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جنید اکبر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا پیغام قیادت کو پہنچا دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کا تحریری حکم بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو پہنچایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی کہ جنید اکبر پارٹی عہدے پر مکمل توجہ دیں، جنید اکبر کی جگہ عمر ایوب کو پی اے سی کا چیئرمین بنائے جانے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے جنید اکبر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جب کہیں گے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دوں گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، فی الحال کوئی مؤقف نہیں دینا چاہتا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملکی سالمیت کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ ہم بخوبی جانتے ہیں، آرمی چیف پاکستان سے جنگ بندی: بھارتی سیکریٹری خارجہ اور ان کی بیٹی تنقید کی زد میں حماس نے آخری زندہ امریکی قیدی کو رہا کرنے کا اعلان کردیا آپریشن بنیان المرصوص کی تفصیلات جاری، مسلح افواج نے قوم سے کیا وعدہ نبھایا، ڈی جی آئی ایس پی آر افواج پاکستان نے پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا، ترجمان پاک فوج اپنے سپہ سالار کو پاکستانی ارطغل کا نام دے رہا ہوں،گورنر کامران ٹیسوری نمائندہ خصوصی محمد صادق کی افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی چیئرمین شپ جنید اکبر پی اے سی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت