بانی پی ٹی آئی کی جنید اکبر کو پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جنید اکبر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا پیغام قیادت کو پہنچا دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کا تحریری حکم بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو پہنچایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی کہ جنید اکبر پارٹی عہدے پر مکمل توجہ دیں، جنید اکبر کی جگہ عمر ایوب کو پی اے سی کا چیئرمین بنائے جانے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے جنید اکبر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جب کہیں گے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دوں گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، فی الحال کوئی مؤقف نہیں دینا چاہتا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ جنید اکبر پی اے سی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔