مایک ہیسن پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق نیوزی لینڈ کرکٹر اور عالمی شہرت یافتہ کوچ مائیک ہیسن کو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا نیا وائٹ بال ہیڈ کوچ مقرر کردیا اور وہ 26 مئی سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اس عہدے کے لیے موصول ہونے والی درجنوں درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد مائیک ہیسن کا تقرر کیا گیا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ مائیک ہیسن اپنی بین الاقوامی کوچنگ مہارت اور وسیع تجربے کی بنیاد پر پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ کو نئی سمت فراہم کریں گے۔
چیئرمین پی سی بی نے بیان میں کہا کہ ہم مائیک ہیسن کو پاکستانی ٹیم میں خوش آمدید کہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت اور رہنمائی ہماری ٹیم کی کارکردگی کو بلند ترین سطح تک لے جائے گی۔
یاد رہے کہ مائیک ہیسن ماضی میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں اور انہیں محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹیموں کی حکمت عملی سازی اور نوجوان ٹیلنٹ کی تربیت کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مائیک ہیسن
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔