پاکستانی ریسکیو تھرلر ڈاکیومنٹری ‘ہنگنگ بائے اے وائر’ کانز فلم فیسٹیول کا حصہ بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستانی فلمساز محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کانز فلم فیسٹول میں پیش کی جائے گی۔
محمد علی نقوی کی نئی دستاویزی فلم ہینگنگ بائی اے وائر کو بین الاقوامی شہرت یافتہ کانز فلم فیسٹول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس خبر کا اعلان خود فلمساز نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ان کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔
یہ دستاویزی فلم اگست 2023ء میں خیبر پختونخوا کے ایک پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے ایک ہنگامی ریسکیو آپریشن پر مبنی ہے، جہاں ایک کیبل کار، جو اسکول کے 6 بچوں سمیت 8 افراد کو لے جا رہی تھی، کیبل ٹوٹنے کے باعث زمین سے تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر ہوا میں لٹک گئی تھی۔
A post common by Mo Naqvi (@mo_naqvi)
اس خطرناک صورتِ حال کے بعد پاک فوج اور دیگر اداروں کی مدد سے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد متاثرہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا تھا۔
محمد علی نقوی نے اس فلم کی تیاری میں شامل تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کامیابی کو ایک اجتماعی کاوش قرار دیا۔ فلم کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی پاکستان کی دستاویزی فلم سازی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: دستاویزی فلم
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔