آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کردیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
آئی ایم ایف نے پاک بھارت کشیدگی کے سبب معیشت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کردی ہیں.
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے پاک بھارتی کشیدگی برقرار رہنے یا اس میں اضافہ ہونے کو معیشت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ اہداف پر پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف مشن نے ٹیکس ریونیو بڑھانے، اخراجات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے ماحولیاتی خطرات کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو محدود کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط بھی مزید سخت کی ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی بڑھنے سے کاروبار بھی متاثر ہوسکتا ہے، قرض پروگرام معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے ڈیزائن کیا ہے پاکستان پروگرام پر مضبوطی سے کاربند رہنے کیلئے پرعزم ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، غیریقینی صورتحال کے منفی خطرات میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عدم استحکام سے مالی، بیرونی اور اصلاحاتی ایجنڈا متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ امریکی اضافی ٹیرف کے بھی پاکستانی معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے خصوصی اقتصادی زونز کو حاصل ٹیکس مراعات بتدریج ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی بروقت ایڈجسٹمنٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ فنڈز دوسرے اقتصادی جائزے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کیا ہے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔