علاقائی امن کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، رضوا ن سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاس اینجلس میں پاکستانی قونصلیٹ کے زیر اہتمام پاکستانی کمیونٹی کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر کاکہنا تھا کہ علاقائی خوشحالی کا انحصار بنیادی تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لئے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے لاس اینجلس میں پاکستانی قونصلیٹ کے زیر اہتمام پاکستانی کمیونٹی کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی خوشحالی کا انحصار بنیادی تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر ہے۔ رضوان سعید شیخ نے جنوبی ایشیا میں حالیہ جنگ بندی کی سہولت کاری میں امریکہ کے تعمیری کردار کو سراہا اور وقار کے ساتھ امن اور علاقائی بقائے باہمی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور ریاست کیلیفورنیا کے درمیان اقتصادی تعاون خاص طور پر ٹیکنالوجی، ماحول دوست توانائی، اعلیٰ تعلیم اور جدت کے شعبوں میں وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے دونوں معیشتوں سے استفادہ کرنے کے لیے ادارہ جاتی اور کاروباری روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔