کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ کابینہ نے ٹریفک قوانین میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی، وزیراعلیٰ نے وزراء کو ٹریفک قوانین کی پابندی سے متعلق فیصلوں پر تمام اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کردی۔

روڈ سیفٹی اور گاڑیوں کی رجسٹریشن:

تمام کمرشل گاڑیوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازم ہوگا، بھاری گاڑیوں پر 0.

5 فیصد رجسٹریشن فیس، ایک ہزار سالانہ ٹیکس عائد ہوگا، غیر فٹ کمرشل گاڑیوں پر 10 ہزار روپے جرمانہ لگایا جائے گا۔

سندھ کابینہ نے 20 سال پرانی گاڑیوں پر بین الصوبائی، 25 سال پرانی پر بین الاضلاعی پابندی لاگو کرنے کی منظوری دے دی، غیر معیاری رکشہ اور لوڈر گاڑیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔

انجن چیسیز کی اسمبلنگ یا تیاری کے لیے 30 لاکھ روپے سالانہ لائسنس درکار ہوگا جس کی تجدید کے لیے ہر سال 10 لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے، جعلی یا غیر قانونی اسمبلی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ہیوی ٹرانسپورٹ ڈرائیونگ پر فیصلہ:

سندھ کابینہ نے ہیوی ٹرانسپورٹ ڈرائیونگ (ایچ ٹی وی) لائسنس کے لیے 30 گھنٹے کی تربیت لازمی قرار دے دی، ایچ ٹی وی لائسنس کی عمر کی حد 24 سے کم کر کے 22 سال کر دی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیا خودکار جرمانہ سسٹم متعارف، خلاف ورزی پر فوری نوٹس جاری کیا جائے گا، ٹنٹڈ شیشوں پر بار بار خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ لگایا جائے گا، صوبے میں خصوصی ٹریفک عدالتیں قائم کی جائیں گی جہاں مقدمات جلد نمٹائے جائیں گے۔

انسداد منشیات کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ:

سندھ کابینہ نے کراچی میں تین، دیگر شہروں میں ایک ایک انسداد منشیات عدالت قائم کرنے کی منظوری دیدی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ بھر میں 9676 منشیات کیسز رپورٹ ہوئے جو غیر معمولی اضافہ ہے، کراچی میں 7769 منشیات کے مقدمات زیر التوا ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام:

سندھ کابینہ نے وزیراعظم کے خواتین بااختیاری پیکج میں شمولیت کی بھی منظوری دے دی، ہر سال صنفی برابری کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ سندھ کابینہ نے ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو قواعد میں ترامیم کی بھی ہدایت کردی۔

اروڑ یونیورسٹی ترامیم:

سندھ کابینہ نے اروڑ یونیورسٹی کو نئے شعبہ جات میں ڈگری دینے کا اختیار دے دیا، فنون، ورثہ، سائنس، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ کے شعبے شامل کیے گئے ہیں، چیف اکاؤنٹنٹ فل ٹائم افسر ہوگا، ایک ماہر ورثہ بھی بورڈ میں شامل ہوگا۔

انکلوژو سٹی منصوبہ:

سندھ حکومت نے خصوصی افراد کے لیے انکلوژو سٹی کے قیام کا بھی اعلان کردیا، کورنگی میں 88.38 ایکڑ زمین پر خصوصی شہر تعمیر ہوگا، انکلوژو سٹی میں خصوصی افراد کی بحالی، تعلیم، اور سبزہ زار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، منصوبے کے لیے 25-2024ء کے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص گئے ہیں۔

سندھ کابینہ نے شاہد عبداللہ کمپنی سے براہ راست معاہدہ کرنے کی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے نادرا کے ساتھ بایومیٹرک تصدیق کے معاہدے کی بھی منظوری دیدی، ہر تصدیق پر 10 روپے پلس ٹیکس فیس مقرر کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کابینہ اجلاس سے خطاب:

وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے اداروں کی شاندار کارکردگی کا اعتراف کیا ہے، سیلاب متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر اور ایس آئی یو ٹی ملک بھر میں ماڈل پروجیکٹس بن گئے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کا ملک گیر ترقیاتی منصوبوں میں کردار قومی یکجہتی کی مثال ہے، وفاق نے سندھ حکومت کو بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختون خواہ میں گھروں کی تعمیر اور ایس آئی یو ٹی قائم کرنے کیلئے 9 ارب روپے دیے ہیں، ان 9 ارب روپے سے رحیم یار خان اور راولپنڈی میں ایس آئی یو ٹی اسپتال سندھ حکومت قائم کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایس آئی یوٹی رحیم یار خان 2 ارب اور راولپنڈی کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایس آئی یو ٹی منصوبوں کے لیے 50 کروڑ روپے سالانہ آپریٹنگ اخراجات مختص ہونگے، منصوبے کی شفاف نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور سہ ماہی رپورٹیں لازم ہونگی، یہ اقدام سندھ کی قومی سطح پر مثبت تصویر پیش کرے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے 9 ارب روپے میں سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کے لیے مکانات بھی بنائے جائیں گے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کے مکانات کی تعمیر نو کیلئے 2 ارب روپے منظور کیے ہیں، بلوچستان کے صحبت پور، جعفرآباد، ڈیرہ مراد جمالی میں سیلاب متاثرین کے مکانات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ این آر ایس پی کو منصوبے کا عملدرآمدی ادارہ مقرر کیا گیا ہے، دور دراز علاقوں میں لاگت میں اضافے کے باعث نقد امداد میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کے سندھ کابینہ نے سندھ حکومت کی منظوری گاڑیوں پر لاکھ روپے نے کہا کہ ارب روپے کی تعمیر جائے گا کرنے کی سندھ کا گئے ہیں کے لیے

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی