بلوچستان کے محکمۂ صحت کے میڈیکل اسٹور ڈپو کی پانچ سالہ اسپیشل آڈٹ رپوٹ میں 5 ارب روپے سے زائد کی بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے 2017ء سے 2022ء کے دورانیہ پر محکمۂ صحت بلوچستان کے میڈیکل اسٹور ڈپو کی 5 سالہ اسپیشل آڈٹ رپوٹ جاری کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق 98 کروڑ کی ادویات اور سرجیکل آلات کی پرچیز کمیٹی کی منظوری کے بغیر خریداری کی گئی۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے کے اضلاع میں ایک ارب 77 کروڑ کی ادویات تقسیم ہی نہیں ہوئیں، 19 کروڑ روپے کا ریکارڈ آڈٹ ٹیم کو مہیا ہی نہیں کیا گیا جبکہ ٹینڈر اور ریکارڈ مرتب کیے بغیر 25 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔

بلوچستان: محکمۂ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور گوادر میں ایک ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

محکمے کے مالیاتی امور میں سنگین بے ضابطگیاں اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ٹیسٹ کروائے بغیر ادویات کی خریداری سے 9 کروڑ روپے کا نقصان ہوا جبکہ ڈینٹل آئٹمز کی ایک کروڑ 52 لاکھ کی مشتبہ خریداری بھی  کی گئی۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ روئی کی خریداری میں 3 کروڑ 57 لاکھ روپے کی بےقاعدگی بھی سامنے آئی۔

دستاویزات کے مطابق ایک فرم سے چار کروڑ 67 لاکھ کی سیکیورٹی رقم حاصل ہی نہیں کی گئی، ضرورت کے بغیر 7 کروڑ کی ایکسرے فلیمز، ڈسپوز ایبل سرنج اور کیمیکلز خریدے گئے۔

دستاویزات کے مطابق 3 کروڑ 48 لاکھ روپے کی زائد المعیاد ادویات تبدیل نہیں کروائیں گئیں، ایم ایس ڈی میں موجود طبی الات استعمال نہ ہونے سے خزانے کو 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا، اسٹاک کی موجودگی کے باوجود 60 لاکھ کی اداویات کی خریدای ضائع چلی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: دستاویزات کے مطابق کی گئی

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے