اسکاٹ لینڈ کی کلینک میں عوام کی ایسی حرکت؛ انتظامیہ کو التجا کرنی پڑ گی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسکاٹ لینڈ میں ایک میڈیکل کلینک نے مقامی لوگوں کو بغیر مانگے پیشاب کے نمونے نہ لانے کی درخواست کر دی۔
اسکاٹش کونسل ایبرڈین شائر میں واقع فریزربرگ نامی قصبے کے کلینک سیلٹون سرجری نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ کلینک وافر مقدار میں موجود بغیر مانگے پیشاب کے نمونوں سے بھرچکا ہے جن میں اکثر نمونے مخصوص طبی بوتل کے بجائے عام بوتلوں میں لائے گئے ہیں۔
پوسٹ میں درخواست کی گئی کہ براہ مہربانی لوگ یہ بات جان لیں کہ کلینک اس وقت تک پیشاب کے نمونے قبول نہیں کرے گا جب تک انہیں طلب نہ کیا جائے۔
کلینک اتنظامیہ نے اپنے قواعد میں یہ تبدیلی بڑی مقدار میں جمع کرائے گئے پیشاب کے نمونوں کی وجہ سے کی ہے جس کی وجہ سے کلینک کی مریضوں کو فراہم کردہ بروقت سہولت متاثر ہورہی تھی۔
برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن اسکاٹ لینڈ کے نمائندے نے بتایا کہ ڈاکٹروں کو یورین ٹیسٹ کے نتائج بتانے سے قبل اس کا معائنہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمع کرائے گئے ہر بغیر مانگے نمونے کے معائنے، معلومات کے لیے مریض سے رابطے اور نتیجہ اخذ کرنے یا مزید معائنے کے لیے بھجوانے کی غرض سے وقت اور میڈیکل سپلائی درکار ہوتی ہے۔
ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ متعدد کلینک کو بغیر طلب کیے پیشاب کے نمونے لانے کے حوالے سے ہدایات جاری کرنی پڑتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیشاب کے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔