مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پٹگرام میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب ہماری تحریک چلے گی، حکمرانوں کو کہنا چاہتا ہوں قبلہ درست کرلیں ورنہ ایک ہفتے میں اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے، اسلام آباد جانے کیلئے تیار رہیں، پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیدی۔ پٹگرام میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب ہماری تحریک چلے گی، حکمرانوں کو کہنا چاہتا ہوں قبلہ درست کرلیں ورنہ ایک ہفتے میں اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے، اسلام آباد جانے کیلئے تیار رہیں، پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع سے ثابت ہو گیا عوام جے یو آئی کے ساتھ ہیں، جے یو آئی پاکستان میں انقلاب برپا کرے گی، اب ہماری تحریک چلے گی، قوم کی وحدت کے لیے ہماری کوشش جاری رہے گی، ہم پُرامن لوگ ہیں، ہمیں اسلام آباد پر قبضے کیلئے مجبور نہ کریں، ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ کو شکست دی ہے، ہم آئین، قانون کی پیروی کرتے ہوئے ملک کیلئے کوشش کریں گے۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ مان لو تمہارے اندر سیاسی بصیرت نہیں، سیاسی لحاظ سے تم بالکل کورے ہو، ملک آئین کی پٹڑی سے اتر رہا ہے، ہم ملک کو آئین کی پٹڑی سے اتارنے والوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں، آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد پر قبضہ انقلاب برپا کریں گے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔