اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاک بھارت حالیہ فضائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے جس جرات، مہارت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے نہ صرف بھارتی جنگی غرور کو خاک میں ملایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی نظام کی صلاحیتوں کا بھرپور اعتراف بھی حاصل کیا۔

پاکستانی فوجی قیادت کی بروقت اور موثر منصوبہ بندی نے دشمن کی عددی برتری کو بے معنی بنا دیا۔ جنگی محاذ پر فتح کے ساتھ ساتھ، سفارتی میدان میں بھی پاکستان نے بھارت کو پیچھے دھکیل دیا۔ امریکی اور دیگر بین الاقوامی نشریاتی ادارے، جو عموماً بھارت کی حمایت اور پاکستان پر تنقید کے لیے مشہور رہے ہیں، اس بار پاکستان کی کارکردگی کو نہ صرف سراہ رہے ہیں بلکہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی بیانیہ سازی اور مودی حکومت کی ناکامیوں کو بھی بےنقاب کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس میں اس بات کا کھلے الفاظ میں ذکر کیا گیا کہ بھارت نے خفیہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ بندی کے لیے مدد کی درخواست کی، جبکہ ماضی میں بھارت ہمیشہ تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرتا رہا ہے۔ خود صدر ٹرمپ کے بیانات نے بھارتی حکومت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔

یہ حقیقت کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارتی میڈیا اور سیاستدان خود کو کامیاب قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے، عالمی میڈیا نے زمینی حقائق بیان کر کے پاکستان کی برتری کو تسلیم کیا، پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تاریخی کامیابی صرف جشنِ فتح تک محدود رہے گی، یا اسے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل سمجھا جائے گا؟ پاکستان کے مضبوط دفاع کا یہ قابلِ فخر لمحہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف وقتی کامیابی کافی نہیں، بلکہ مستقل دفاعی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کا حصول، اور خطے میں امن کے قیام کے لیے دانشمندانہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اس کامیابی کو مستقبل کی بنیاد بنائیں، جہاں پاکستان نہ صرف دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو، بلکہ سفارتی اور معاشی میدانوں میں بھی دنیا میں باوقار مقام حاصل کرے۔
مزیدپڑھیں:شملہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو لائن آف کنٹرول کا وجود بھی نہیں رہے گا، وزیر دفاع

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی