پی ایس ایل10 میں کیچز ڈراپ کرنے کا مقابلہ، کونسی ٹیم سب سے آگے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن میں پلے آف میچز کے آغاز سے قبل ٹیموں نے 124 کیچز ڈراپ کردیے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن میں ٹیموں کی جانب سے کیچز ڈراپ کرنے کے اعداد و شمار شیئر کیے جس نے مداحوں کو حیران کردیا۔
سابق کپتان کی جانب سے شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملتان سلطانز نے رواں سیزن سب سے زیادہ 25 کیچز چھوڑے اور 10 میچز میں محض ایک فتح حاصل کی۔
مزید پڑھیں: بابراعظم، رضوان کی واپسی پر ہیڈکوچ کا بیان سامنے آگیا
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فیلڈرز نے 22، لاہور قلندرز اور کراچی کنگز نے یکساں طور پر 20، 20 کیچز ڈراپ کیے۔
مزید پڑھیں: بنگلادیش کیخلاف پاکستان کے اسکواڈ کا اعلان، بابراعظم، رضوان پھر باہر
اسی طرح دفاعی چیمپئن اسلام آباد نے 19 مواقع دے کر حریف بیٹرز کو اننگز جاری رکھنے کی اجازت دی۔
ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ سے باہر ہونیوالی بابراعظم کی پشاور زلمی نے سب سے کم 18 کیچز چھوڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیچز ڈراپ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔