امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی کیلی فورنیا میں اینجلس ورلڈ افیئر کونسل کے ساتھ ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کیلی فورنیا(نیوز ڈیسک) امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے لاس اینجلس ورلڈ افیئرز کونسل کے ایک وفد کا استقبال کیا جس کی قیادت بورڈ کی چیئر پرسن ماریا کونٹریاس سویٹ اور بورڈ کے سینئر ممبران نے کی۔ لاس اینجلس میں پاکستان کے قونصل جنرل عاصم علی خان بھی موجود تھے۔
دونوں فریقوں نے معاشی ترقی، توانائی کی منتقلی، آبی تحفظ، آبادیاتی رجحانات، خواتین کو بااختیار بنانے اور پاکستان کی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں پیشرفت سمیت عالمی اور علاقائی معاملات پر بات چیت کی۔
وفد نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کی تعریف کی اور پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جس کا مقصد جامع اور پائیدار ترقی اور دو طرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے ماحول کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جس میں انہوں نے آپریشن بنیاد مرصوص کی کامیابی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دیرپا امن اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں طویل مدتی امن کے لیے جموں و کشمیر تنازعہ کا منصفانہ، پرامن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ملاقات کے بعد سفیرِ پاکستان نے ورلڈ افیئرز کونسل کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے ریمارکس میں انہوں نے پاکستان کی معاشی بحالی، وقار کے ساتھ امن کے لیے اس کے وژن اور پاکستان-امریکہ کے تعلقات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاشی استحکام اور ترقی کی حکمت عملی ایک مستحکم اور محفوظ علاقائی ماحول سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کو مؤثر طریقے سے پسپا کرنے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم، طاقت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور اگر بھارت کی جانب سے مستقبل میں بھی کوئی مہم جوئی کی گئی تو پاکستان اپنی سالمیت کا بھرپور دفاع کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔
سفیر پاکستان نے بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی فریم ورک کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا خاص طور پر بین الاقوامی آبی وسائل کے حوالے سے جو کہ قومی سلامتی اور خطے کے کروڑوں لوگوں کی پائیدار ترقی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
سفیر نے خطے میں حالیہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو سراہا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان وسیع تر اور کثیر جہتی شراکت داری بشمول انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پارٹنرشپ کو اجاگر کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے ، خاص طور پر ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے پس منظر میں اس تعاون کومزید بڑھانے کی ضرورت کا اعادہ کیا انہوں نے امن کے فروغ اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پائیدار حل سمیت علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی مسلسل مصروفیت کا خیرمقدم کیا۔
سفیر پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ انتہاپسند ہندوتوا نظریہ اور آر ایس ایس کے اثر و رسوخ سے چلنے والی ہندوستان میں بڑھتی ہوئی لاپرواہ اور تسلط پسند حکومت سے پیدا ہونے والے فاشسٹ اور نسل پرستانہ بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافہ کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز انداز اقدامات علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے لاس اینجلس ورلڈ افیئرز کونسل سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی امن اور مکالمے کو فروغ دینے میں فعال طور پر مصروف رہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ورلڈ افیئر کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ بین الاقوامی سفیر پاکستان پاکستان نے انہوں نے زور دیا کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب