چینی سفیر کا ایئر ہیڈکوارٹر کا دورہ، چینی ساختہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چینی سفیر نے چینی ساختہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں پاکستانی ایئرفورس کی بھارتی فضائیہ پر برتری، چینی ایئرکرافٹ کمپنی کے شیئرز کی قیمت بڑھ گئی
ایئر چیف سے چینی سفیر کی ہونے والی ملاقات میں ادارہ جاتی سطح پر روابط، دفاعی تعاون، خطے کی بدلتی جیو اسٹریٹیجک صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مشترکہ حکمت عملیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہاکہ پاکستان اور چین تاریخی اور آزمودہ دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی باہمی اعتماد، تزویراتی ہم آہنگی اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مستقبل میں باہمی تعاون و شراکت داری کے ذریعے پاکستان اور چین کی دوستی مزید گہری ہوگی۔
پاک فضائیہ کے سربراہ نے چین کی مسلسل حمایت اور غیر متزلزل دوستی پر اظہار تشکر کیا اور دفاعی نظام کی جدیدیت اور تکنیکی ترقی میں چین کے کردار کو سراہا۔
ایئر چیف مارشل نے انسانی وسائل کی ترقی، ٹیکنالوجی ،مشترکہ تحقیق و ترقی کے شعبوں میں چین کے کردار کو سراہا اور ملاقات میں اعلیٰ سطح کے روابط کو ادارہ جاتی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ اس موقع پر چینی سفیر نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان ایئر فورس کی غیر معموملی آپریشنل مہارت کو سراہا اور اس مہارت کو قومی دفاع سے وابستگی کا اعلیٰ مظہر قرار دیا جبکہ چین کے سفیر نے چینی ساختہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر پی اے ایف کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور پاک فضائیہ کی خود انحصاری پر مبنی حکمت عملی کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چینی سفیر نے مقامی سطح پر تیار کردہ نظاموں کے مؤثر استعمال اور خطرات کی روک تھام کے لیے جدید سسٹمز کے استعمال کی حکمت عملی کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چینی سفیر نے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ چین پاک فضائیہ کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرےگا۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی فضائیہ کو پہنچائے گئے نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں
چین کے سفیر نے کہاکہ پی اے ایف کی مقامی سطح پر تکنیکی ترقی میں سرمایہ کاری کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی پر مسلسل توجہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید نکھارے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایئر ہیڈکوارٹر پاکستان ایئر فورس پی اے ایف چینی سفیر دورہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر ہیڈکوارٹر پاکستان ایئر فورس پی اے ایف چینی سفیر وی نیوز کے مؤثر استعمال چینی سفیر نے پاک فضائیہ فضائیہ کی کو سراہا کے مطابق ایئر چیف کی ترقی کے لیے چین کے ایس پی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔