فوٹو فائل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لانڈھی میں زیر تعمیر 'ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کا بتایا جسے دنیا کا سب سے بڑا دل کا اسپتال قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کی کارکردگی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، سیکریٹری وزیراعلیٰ زمان ناریجو اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس آئی سی وی ڈی پروفیسر جاوید سیال سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نےایس آئی سی وی ڈی کو عوامی صحت کا مثالی ماڈل قرار دیا اور کہا کہ اس ادارے میں دل کے ہنگامی علاج، پیچیدہ سرجریوں اور بچوں کو امراض قلب کی تمام خدمات مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ عظیم منصوبہ 1,200 بستروں پر مشتمل ہوگا جس میں 5 جدید آپریٹنگ تھیٹرز، 4 کیتھ لیبز، 1 ہائبرڈ لیب، جدید سی ٹی اور ایم آر آئی سہولیات، بچوں کے امراض قلب کا جامع علاج، ایک تحقیقی مرکز اور نرسنگ اسکول شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ پاکستان کو امراضِ قلب کے علاج اور طبی تحقیق میں خطے کا رہنما بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو ایس آئی سی وی ڈی کے آئندہ توسیعی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی جن میں ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد میں اہم ترقیاتی کام شامل ہیں۔

ٹنڈو محمد خان میں ایس آئی سی وی ڈی کی نئی سہولت جلد افتتاح کےلیے تیار ہے جس میں ایک اضافی آپریشن تھیٹر، بچوں کے لیے خصوصی انتہائی نگہداشت یونٹ (پی آئی سی یو) سرجیکل آئی سی یو اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینٹرل اسٹرل سروسز ڈپارٹمنٹ (سی ایس ایس ڈی) شامل ہوں گے۔ یہ سہولیات علاقے میں جراحی کی صلاحیت اور خصوصی نگہداشت کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں گی۔

حالیہ افتتاح شدہ سہولیات میں ایک نیا آٹھ بستروں پر مشتمل ٹریاژ یونٹ شامل ہے جو نازک حال مریضوں کی فوری جانچ کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایک 19 بستروں والا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ بھی فعال کر دیا گیا ہے جو پیچیدہ امراضِ قلب کی ہنگامی صورتحال سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹنے کےلیے مکمل طور پر لیس ہے۔ یہ اقدامات حکومت کی صحت تک خصوصاً پسماندہ علاقوں کے لیے مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے عزم کا مظہر ہیں۔

وزیراعلیٰ کو ادارے کے طویل المدتی وژن کے تحت گراؤنڈ پلس سات منزلہ عمارت کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا گیا جس میں 300 بستروں پر مشتمل ان پیشنٹ سہولیات، بچوں کے دل کی جدید نگہداشت، مزید آپریٹنگ تھیٹرز اور کیتھ لیبز، سی ٹی اور ایم آر آئی کی جدید سہولیات شامل ہوں گی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تعمیراتی کام کی تیز رفتار تکمیل، معیار کو یقینی بنانے اور مریضوں کو مرکزِ نگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ ہر اخراجات کا مؤثر اور قابلِ پیمائش نتیجہ سامنے آئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایس آئی سی وی ڈی

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے