آسٹریلیا؛ 3 دن میں 6 ماہ کے برابر بارش؛ سیلابی کیفیت میں 4 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
مشرقی آسٹریلیا کے کئی علاقے ان دنوں قدرتی آفت کی زد میں ہیں جہاں صرف تین دن میں چھ ماہ کے برابر بارش نے ریکارڈ توڑ سیلاب کو جنم دے دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس قدرتی المیے میں اب تک 4 افراد کی جان جا چکی ہے جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو کر امداد کے منتظر ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کا زرخیز علاقہ، جو سڈنی سے تقریباً 400 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، اس وقت پانی کے تباہ کن بہاؤ کی زد میں ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے اب تک سیلابی پانی سے 4 لاشیں برآمد کی ہیں۔ جمعہ کو جب پانی کچھ کم ہوا تو ریسکیو اور صفائی کے بڑے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
کیمپسی شہر کے میئر کِن رِنگ، جو اپنے علاقے کی زرعی پیداوار کے لیے مشہور ہے، نے بتایا کہ ’’درجنوں کاروباری مراکز مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔‘‘ ریاستی ایمرجنسی سروس کے سربراہ ڈیلاس برنز کے مطابق، 2 ہزار سے زائد کارکنوں کو ریسکیو اور بحالی کے مشن پر تعینات کیا گیا ہے۔
برنز نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’فی الحال ہمارا سب سے بڑا ہدف ان کمیونٹیز کو دوبارہ رسد فراہم کرنا ہے جو مکمل طور پر کٹ چکی ہیں۔ تقریباً 50 ہزار افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔‘‘
مقامی باشندوں نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔ کئی لوگوں نے اپنی گاڑیوں، گھروں اور ہائی وے کے پلوں پر چڑھ کر ہیلی کاپٹرز سے بچاؤ کی درخواست کی۔
آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفانوں نے صرف تین دن میں چھ ماہ سے زیادہ کی بارش برسا دی ہے، جس نے کئی علاقوں میں سیلاب کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
وزیراعظم انتھونی البانیزے نے آفت زدہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کو ’’انتہائی ہولناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بنیادی ڈھانچے کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس سے نمٹنا ہوگا۔‘‘
ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ تباہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکام نے متنبہ کیا ہے کہ مزید بارش کی صورت میں صورتحال اور بھی سنگین ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔