کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
اسٹیشن کے غیر روایتی راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔
ریلوے پلیٹ فارم سے آنے اور جانے کےلیے تمام غیر روایتی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کے بعد ٹرین سروس اب تک بحال نہیں ہوسکی۔
تین پوائنٹ جس میں بکنگ آفس، ریلوے پارسل گودام اور مین دروازے سے داخلے کےلیے واک تھرو گیٹس سے گزر کر جاتے ہیں، جہاں مسافروں کی چکننگ اور سامان کی اسکیننگ بھی کی جاتی ہے جس کے بعد انہیں پلیٹ فارم پر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں اور ڈی ایس پی لیول کا آفیسر اس کی مانیٹرنگ کرتا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک حرکت اور شخص کا پتہ لگایا جا سکے۔
حکام کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر سادہ کپڑوں میں اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ وہ کسی بھی مشکوک شخص اور صورتحال پر نظر رکھ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریلوے اسٹیشن پر
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔