بلوچستان اسمبلی، اے این پی کی چیئرمین پی ٹی اے کیخلاف قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
رہنماؤں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمام وفاقی اداروں کے سربراہان کا تقرر صلاحیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں چیئرمین پی ٹی اے کے اے این پی رہنماء ایم ولی خان کے ساتھ غیرمناسب رویے کیخلاف مذمتی قرار داد جمع کرا دی گئی۔ مذمتی قرارداد پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، ملک نعیم بازئی اور سلیمہ خان کاکڑ نے جمع کرائی۔ اے این پی رہنماؤں کے مطابق قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاست اور سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی سیاسی جماعت یا رہنماء اصولی موقف اختیار کرتا ہے، اسے منظم سازشوں اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی اپنے نظریات اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ثابت قدم رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ چیئرمین پی ٹی اے کی نااہلی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب وہ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کے عوامی مفادات سے متعلق اہم سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ اس موقع پر انہوں نے نہ صرف غیر سنجیدہ اور بھونڈا رویہ اختیار کیا، بلکہ اپنی نااہلی کو مزید واضح کیا۔
اے این پی رہنماؤں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین نے کبھی نہ تو فرنگیوں کی غلامی قبول کی اور نہ ہی آج کسی سے مرعوب ہوئے۔ ایسی صورت میں ایک ریٹائرڈ جنرل کیسے جرات کر سکتا ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرے؟ عوامی نیشنل پارٹی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمام وفاقی اداروں کے سربراہان کا تقرر صلاحیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر کیا جائے۔ چیئرمین پی ٹی اے کو ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی اصطلاحات اور تکنیکی امور کا بھی علم نہیں ہے۔ وہ ایک حساس اور اہم ادارے کے سربراہ کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو نااہل ریٹائرڈ افسران کے ذریعے تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گی اور اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کی، تاکہ اس اہم نوعیت کے معاملے پر بات کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی نیشنل پارٹی چیئرمین پی ٹی اے اے این پی
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔