کراچی: لیاقت نیشنل میڈیکل کالج کے سالانہ کانووکیشن میں 103 طلباء کو ڈگریاں تفویض
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
کراچی:
لیاقت نیشنل میڈیکل کالج کا 10 واں سالانہ کانووکیشن ہفتے کو لیاقت کالج میں منعقد ہوا جس میں ایم بی بی ایس سال 2024 کے 103 گریجویٹ طلباء کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔
کانووکیشن میں پہلی پوزیشن ڈاکٹر مریم، دوسری ڈاکٹر ملائیکہ اور تیسری ڈاکٹر علینہ امین محمد نے حاصل کی جبکہ ڈاکٹر منال ارشد ملک کو بہترین گریجویٹ کے اعزاز میں ”واجد علی شاہ میڈل“ سے نوازا گیا۔
کانووکیشن کے مہمان خصوصی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن نے طالبعلموں کو اسناد تفویض کیں۔
تقریب میں لِیاقت نیشنل میڈیکل کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان فریدی، کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر کریم اللہ مکی سمیت دیگر فکلیٹی اراکین اور طلباء و طالبات اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی۔
وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن، رجسٹرار جناح یونیورسٹی ڈاکٹر اعظم خان اور لیاقت نیشنل اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان فریدی نے کہا کہ فارغ و التحصیل طلباء وطالبات دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں رہیں۔
انکا کہنا تھا کہ طب کے شعبے کا تقاضہ ہے کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے دکھی انسانیت کی خدمت کی جائے اور یہی بہترین عبادت ہے۔
ڈاکٹر سلمان فریدی نے بتایا کہ لیاقت میڈیکل کالج سے اب تک 1200 ڈاکٹر گریجویٹ تیار ہوچکے ہیں جو ملک بھر میں اپنی خدمت انجام دے رہیں ہیں۔
انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے طلباء و طالبات سے کہا کہ وہ ملک میں صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ آخر میں انہوں نے گریجویٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میڈیکل کالج
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔