بھارت اور اسرائیل دہشتگردی کے مراکز اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے مستقل سدباب کیلئے قومی کانفرنس بلائیں، جس میں تمام سیاسی و مذہبی قائدین کو شرکت کی دعوت دی جائے اور ان سے بھی رائے لی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سینیٹر اعجاز چودھری سے ہسپتال میں ملاقات کی۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ سیاسی بحرانوں سے نجات کیلئے قومی سیاسی قیادت بند گلی سے باہر آئے، جبکہ موجودہ صورتحال میں سیاسی بحرانوں کا سیاسی حل ناگزیر ہے۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے مستقل سدباب کیلئے قومی کانفرنس بلائیں، جس میں تمام سیاسی و مذہبی قائدین کو شرکت کی دعوت دی جائے اور ان سے بھی رائے لی جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے مراکز اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، عالمی برادری کو امن کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہا اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے امن کیلئے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔