پچیس کروڑکی آبادی کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا: رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
پچیس کروڑکی آبادی کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا: رضوان سعید شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 May, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔
امریکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی کوئی شق یا گنجائش نہیں، عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کی حمایت نہیں کرے گی۔
پاکستان کے سفیر نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا نے نمایاں کردار ادا کیا، پاک بھارت کشیدگی میں کمی سے متعلق امریکی قیادت کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے داعی ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت سے متعلق امریکی صدر کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں، پاکستان کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کے مستقل حل کا خواہاں ہے۔
رضوان سعید شیخ نے مزید کہا ہے کہ بھارتی قیادت کے بیانات کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں، بھارتی قیادت کے بیانات ہندوتوا کی دہشت گردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، بلوچستان میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشام پر امریکی پابندیوں کا اختتام: 25 سال بعد ایک نئی شروعات کی امید شام پر امریکی پابندیوں کا اختتام: 25 سال بعد ایک نئی شروعات کی امید آئی ایم ایف کیساتھ بجٹ اہداف پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال پر ایڈوائزری جاری فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، فیصل واوڈا کا دعویٰ بنگلہ دیش میں سیاسی بحران، محمد یونس کی عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی مہمند ڈیم کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور، ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔