آزاد کشمیر میں موبائل و انٹرنیٹ سروس کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں، ریجنل کمشنر وفاقی محتسب
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
آزاد کشمیر میں ایس کام کے علاوہ فائبر آپٹک کسی اور کمپنی کے پاس نہیں جس کی وجہ سے سروس سلو ہے، سیلولر موبائل کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر کیلئے این او سی کے ایشوز تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی محتسب کے ریجنل کمشنر آئی آر ڈی منصور قادر ڈار نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں موبائل و انٹرنیٹ سروس کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ خراب موبائل و انٹرنیٹ سروس کی وجہ سیلولر موبائل کمپنیوں کے پاس آپٹیکل فائبر نہ ہونا اور آزادکشمیر میں کشمیر کونسل کی جانب سے یو ایس ایف فنڈ کی عدم فراہمی ہے۔ آزاد کشمیر میں ایس کام کے علاوہ فائبر آپٹک کسی اور کمپنی کے پاس نہیں جس کی وجہ سے سروس سلو ہے، سیلولر موبائل کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر کیلئے این او سی کے ایشوز تھے جن کو یکسو کرنے پر کام کیا جا رہا ہے، بالخصوص چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اس حوالے سے ون ونڈو این او سی پر کام کر رہے ہیں۔USF وہاں کام کرتا ہے جہاں موبائل کمپنیز اپنے ٹاور اس وجہ سے نہیں لگاتیں کہ ان کا خرچہ زیادہ اور انکم کم ہوتی ہے ایسی جگہوں پر یو ایس ایف فنڈ سے ٹاور لگائے جاتے ہیں۔
یو ایس ایف فنڈ پاکستان کے ریموٹ ایریاز میں کام کر رہا ہے۔ یو ایس ایف فنڈ کی فراہمی کے لیے حکومت آزاد کشمیر کام کر رہی ہے۔ اگر فائبر آپٹک کے لیے این او سی اور یو ایس ایف فنڈ مل جائے تو سروس کے مسائل تقریبا حل ہو جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹر پی ٹی اے ناصر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کمشنر آئی آر ڈی منصور قادر ڈار نے کہا کہ موبائل کمپنیز کا ریگولیٹری ادارہ پی ٹی اے ہے ہم ان سے جواب لیتے ہیں۔ وفاقی محتسب کا باقاعدہ ای کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے دفتر کے گزشتہ سال اکتوبر میں قیام سے لیکر آج تک یعنی 7 سے آٹھ ماہ میں 1400 شکایتیں درج ہوئیں جن میں سے 950 کو نمٹا دیا گیا۔ انہوں نےکہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے شکرگزار ہیں جنہوں نے یہاں دفتر قائم کرنے میں معاونت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یو ایس ایف فنڈ وفاقی محتسب کام کر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔