سرینگر:سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر پروفیسر اور خاتون صحافی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے دارلحکومت سرینگر میں بھارتی پولیس نے ایک پروفیسر اور صحافی کو گرفتار کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی اہلکار سری نگر پہنچ گئے، غزہ اور گجرات کے قاتلوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس کی سائبر برانچ نے سری نگر کے علاقے کولگام کے ایک برطرف پروفیسر ڈاکٹر وسیم اور اس وقت ناٹی پورہ میں مقیم صحافی آصفہ بشیر کو گرفتار کیا ہے، پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ دونوں مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ’قابل اعتراض‘ مواد اپ لوڈ کرنے اور پھیلانے میں ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 7 ہزار سرکاری ملازمین کو سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم کیوں طلب کیا گیا ہے؟
ڈاکٹر وسیم کو تھانہ شیر گڑھی کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ آصفہ بشیر کو مزید تفتیش کے لیے وومن پولیس اسٹیشن رام باغ بھیج دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی پولیس پروفیسر سرینگر سوشل میڈیا پوسٹ صحافی گرفتار مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی پولیس پروفیسر سوشل میڈیا پوسٹ صحافی گرفتار
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔