حکومت پاکستان کا ہر مشکل میں بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہیں، انورالحق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگلے 6 ماہ میں ہندوستان کی جانب سے پھر امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے شہداء کے ورثاء کی تالیف قلب کے لیے ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کے لیے 10 سے 20 لاکھ تک امداد احسن اقدام ہے، حکومت آزادکشمیر نے ایل او سی ایکٹ کے تحت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے امدادی رقوم کی ادائیگی یقینی بنائی، حکومت پاکستان کا ہر مشکل میں بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہیں، بھارت شاید بین الاقوامی سرحد پر جارحیت سے باز رہے لیکن بھارت کا ہدف اب آزاد کشمیر بھی ہو سکتا ہے، بھارت نے سیز فائر کے فوری بعد بلوچستان میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، اگر بھارت نے جارحیت کی تو اس کم ظرف دشمن کو ماریں گے، ہم نے کوشش کی ہے کہ اس معاشرے کو سیاسی پولرائزیشن سے بچایا جائے، وزیراعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ ہمارا ترقیاتی بجٹ 28 ارب ہے جس میں اضافہ کر کے اس کو 38 ارب کیا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے شہریوں کے ورثاء میں امدادی رقوم کے چیک کی تقسیم کی تقریب سے خطاب میں کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر امور کشمیر انجنئیر امیر مقام، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت آزادکشمیر کے سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، موسٹ سنئیر وزیر وقار احمد نور، وزرائے حکومت، سابق وزرائے اعظم آزادکشمیر، حریت کانفرنس کے نمائندگان سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان بھی شریک تھے، تقریب میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیراعظم آزاد کشمیر، موسٹ سنئیر وزیر وقار احمد نور، وزرائے حکومت نے حالیہ بھارتی جارحیت کے باعث شہید اور زخمی ہونے والے سول شہریوں کے ورثاء میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کیے۔ تقریب میں آزاد کشمیر سے کل 32 شہداء کے ورثاء کو وفاقی حکومت کی فی شہید کے حوالے سے مرتب پالیسی کے مطابق ایک کروڑ روپے جبکہ 164 زخمیوں کو بھی 10 سے 20 لاکھ روپے تک کی ادائیگی کی گئی ہے۔ تقریب سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے بھی خطاب کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگلے 6ماہ میں ہندوستان کی جانب سے پھر امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے گی، ایل او سی پر آباد کشمیری فرسٹ سول ڈیفنس لائن ہے، اس آبادی کے تحفظ کے لیے بنکرز کی ضرورت ہے، وزیراعظم پاکستان اور مسلح افواج پاکستان کی قیادت کو بھارتی جارحیت کو ناکام بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے سپہ سالار پاک فوج کو فیلڈ مارشل جنرل کے عہدے پر تعیناتی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بھارت ازلی روایتی اور کم ظرف دشمن ہے، بھارت سے خیر کی توقع نہیں ہے، سیز فائر عارضی امن بحال کرنے کی کوشش ہے، بھارت مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے دوبارہ جارحیت کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت سے شہداء اور زخمیوں کا درد دیکھ کر مقبوضہ جموں کشمیر کا درد عام سطح پر محسوس کیا گیا، پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز 3000 عام شہریوں کو لاپتہ جبکہ بھارتی ریاستی افواج کی دہشتگردی کی وجہ سے 60 مکان تباہ کر دیے گئے ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شادی کے بعد جانے والی خواتین کو بھارت نے سٹیٹ لیس شہری بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کا بازار گرم ہے، معرکہ حق کی بدولت بھارت جارحیت سے باز آیا، تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچا کر تحریک تکمیل پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی بدنیتی سے آگاہ تھے، ہمیں اندازہ تھا کہ بھارت ننگی جارحیت کرے گا، میں ایس ڈی ایم اے، فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس سمیت تمام دیگر متعلقہ محکموں کو جارحیت کے دوران متحرک رہنے اور عوام کی بھرپور رہنمائی اور معاونت کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ رٹھوعہ ہریام پل کے لیے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے 3 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے انفراسٹرکچر اور میڈیکل کالجز کے لیے وسائل فراہم کیے، آزاد کشمیر میں این سی سی کی ٹریننگ اشد ضروری ہے، شہری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اقدمات اٹھائے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد مظفر آباد شہر کے لیے کمیونیٹی بنکرز کی بھی اشد ضرورت ہے، حکومت آزاد کشمیر لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا، ہمیں سیاسی اختلافات بھلا کر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا، اتحاد اور یکجہتی سے ہی مسائل کا سدباب ممکن ہے۔ انھوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزراء کا مظفر آباد آ کر آزاد کشمیر کے شہداء اور زخمیوں کے ورثاء سے اظہار یکجہتی پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم پاکستان کشمیر نے کہا کہ بھارتی جارحیت پر شکریہ ادا پاکستان کی کی جانب سے انھوں نے کرتے ہیں کے ورثاء کہ بھارت کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔