اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 24 مئی 2025ء ) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم نہ صرف عدلیہ پر حملہ ہے، کسی کو بھی کسی کرنل کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے، یہ معاملہ پی ٹی آئی یا عمران خان کا نہیں پوری قوم کا معاملہ ہے۔ انہوں نے آج یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ مخصوص نشستوں کا تحریک انصاف کو دینے کا کیا تھا اس کے خلاف ریویو کی درخواست تاریخ کی پہلی ریویو کی درخواست ہے جس میں فیصلہ لکھنے والے جج شامل نہیں ان کو شامل نہ کرنے کی واحد وجہ اس فیصلے کو ریورس کیا جائے تحریک انصاف کی سیٹیں چھینی جائیں ۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نہ صرف عدلیہ پر حملہ ہے یہ جمہوریت پر حملہ ہے ہمارے انسانی حقوق پر حملہ ہے ہم سب اس کا ہدف ہیں ہم میں سے کسی کو بھی کسی کرنل صاحب کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ چھبیسویں آئینی ترمیم پی ٹی آئی یا عمران خان کا معاملہ نہیں پوری قوم کا معاملہ ہے یہ صرف پی ٹی آئی کی جنگ نہیں پوری قوم کی جنگ ہے آج مقتدر حلقوں کو اختیار حاصل ہو چکا کہ ہو خیبرپختونخوا کو لہولہان کریں، بلوچستان سے لوگوں کو گمشدہ کردیں، پنجاب کا الیکشن لوٹیں یا سندھ کا پانی لوٹیں، ہم سب کو ایک ہو کر سندھ کے پانی لوٹنے بلوچستان کے افراد کی جبری گمشدگی خیبرپختونخوا میں ڈرون حملوں پنجاب میں چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالیوں کے خلاف نکلنا ہے۔

دوسری جانب وزیرمملکت سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ سفارتی سطح پر بھارت کو بے نقاب کرنے کیلئے ہمارا پہلا وفد یکم جون تک بیرون ملک جائے گا، پاکستان دنیا کے سامنے کوئی نئی چیز نہیں بلکہ صرف حقائق بیان کرے گا، پاکستان نے کہا کہ پہلگام واقعے کی تیسرے فریق سے تحقیقات کروالیتے، لیکن بھارت نے کہا کہ ہم نے جنگ کرنی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پر حملہ ہے نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سامنے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا