پی ایس ایل 10: سب سے زیادہ رنز بنانے والا کھلاڑی کون، اور وکٹیں کس کی زیادہ ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کا فائنل لاہور قلندرز نے جیت لیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 201 رنز اسکور کیے۔
یہ بھی پڑھیں پی ایس ایل فائنل میں پاک بحریہ کو خراج تحسین، قذافی اسٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا
جواب میں لاہور قلندرز نے ہدف آخری اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا، اور تیسری بار ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔
ایونٹ کے دوران سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کا تعلق اسلام آباد یونائیٹڈ سے ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے صاحبزادہ فرحان نے 449 رنز اسکور کیے اور اسکور ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔
اسی طرح بولرز میں پہلا نمبر لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کا ہے، جنہوں نے 312 رنز دے کر 19 وکٹیں حاصل کیں۔
واضح رہے کہ پاکسان سپر لیگ کا فائنل 18 مئی کو لاہور میں ہونا تھا، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی وجہ سے ایونٹ کو ملتوی کرنا پڑا اور سیز فائر کے بعد دوبارہ شیڈول جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں پی ایس ایل فائنل: ابرارالحق کی پرفارمنس نے تقریب کو چار چاند لگا دیے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل فائنل کو پاکستان بحریہ کے نام کیا تھا، فائنل میں پہلی اننگز کے بعد تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان بحریہ کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا، اور اسٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد یونائیٹڈ پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل پی سی بی قذافی اسٹیڈیم لاہور قلندرز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد یونائیٹڈ پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل پی سی بی قذافی اسٹیڈیم لاہور قلندرز وی نیوز لاہور قلندرز پی ایس ایل سپر لیگ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔