جیتی ہوئی 3 پی ایس ایل ٹرافیز کے ساتھ شاہین آفریدی کی تصویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین شاہین شاہ آفریدی کی خوب تعریفیں کرتے نظر آئے کہ ان کی کپتانی میں لاہور قلندرز کی ٹیم تیسری بار لیگ کی فاتح بنی ہے۔
شاہین آفریدی نے میچ جیتنے کے بعد سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر اپنی جیتی ہوئی ٹرافیز اور فضل محمود کیپ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا صبح بخیر، اور ساتھ ہی انہوں نے شرمانے والا ایموجی بھی بنایا۔
Good morning ???? pic.
— Shaheen Shah Afridi (@iShaheenAfridi) May 26, 2025
لاہور قلندرز کے کپتان کی پوسٹ پر صارفین انہیں مبارکباد دیتے نظر آئے اور انہیں بہترین کپتان اور بہترین بولر قرار دیا۔
واضح رہے کہ لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی نے پی ایس ایل 10 کا فائنل جیتنے کے بعد سب سے اس لیگ کے سب سے کامیاب کپتان ہونے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔
اس سے قبل وہ 2022 اور 2023 میں مسلسل 2 بار یہ ٹائٹل جیت چکے تھے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی کپتان یہ ٹائٹل ایک سے زائد مرتبہ نہیں جیتا ہے۔
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے فضل محمود کیپ بھی حاصل کی۔ انہوں نے 12 میچز میں 19 وکٹیں حاصل کیں اور بیسٹ بولر آف دی ٹورنامنٹ بھی قرار پائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل پی ایس ایل 10 شاہین آفریدی فضل محمود کیپ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل پی ایس ایل 10 شاہین ا فریدی فضل محمود کیپ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز لاہور قلندرز
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔