فلسطین پر پاکستان کا مؤقف نہایت قابل ستائش ہے: ایرانی سپریم لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
فلسطین پر پاکستان کا مؤقف نہایت قابل ستائش ہے: ایرانی سپریم لیڈر WhatsAppFacebookTwitter 0 27 May, 2025 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین پرپاکستان کے مؤقف کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کو مل کر صیہونی حکومت کو غزہ میں جرائم سے روکنا چاہئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر پاکستان کامؤقف نہایت قابل ستائش ہے، اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کیلئے مسلم ممالک کو ہمیشہ ترغیبات رہی ہیں تاہم ان ترغیبات سے پاکستان کبھی متاثرنہیں ہوا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ بعض مسلم ممالک صیہونی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں، باہمی تعاون کے ذریعے ایران اور پاکستان مسلم دنیا میں اہم اور پراثر کردار ادا کرسکتے ہیں اور مسئلہ فلسطین کو موجودہ غلط سمت سے ہٹا کر اس کی سمت درست کی جاسکتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ وہ مسلم دنیا کے مستقبل سے پرامید ہیں اورکئی ایسی پیشرفت ہوئی ہیں جو اس امید کو تقویت پہنچاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے پاک بھارت تنازع میں کمی پر اطمینان کااظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں اقوام کے درمیان تنازعات کا حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب جنگوں کے حامی دنیا بھر میں تنازعات اور تقسیم پھیلانے کی کوشش میں ہیں، مسلم دنیا میں سلامتی اور تحفظ کا اہم ذریعہ مسلم اقوام کے درمیان اتحاد اور تعلقات کی مضبوطی میں ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نےاس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون کے ذریعے اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او کو پھر سے فعال کیا جانا چاہئے۔
پاک ایران تعلقات کے تاریخی تناظر میں آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں مستقل گرمجوشی رہی ہے اور یہ ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں، عراق جنگ میں بھی پاکستان کا موقف اس برادرانہ رشتہ کی سند رہا ہے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای سے تہران میں کی گئی ملاقات کے موقع میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کےوفد میں فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار، وفاقی وزیرداخلہ محسن رضا نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی شریک تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی برادری مودی کے نفرت انگیز اور پرتشدد بیانات کا نوٹس لے: پاکستان عالمی برادری مودی کے نفرت انگیز اور پرتشدد بیانات کا نوٹس لے: پاکستان پنجاب میں سولر پینلز کی تنصیب کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کی ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات، امریکہ کیساتھ جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کی دور اندیشی کی تعریف امریکا اور حماس غزہ میں جنگ بندی پر متفق ہوگئے، اسرائیل ہٹ دھرمی پر قائم سینیٹر ایمل ولی نے جرگے کے حکم پر چیئرمین پی ٹی اے کی معذرت قبول کرلی اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتا افراد کمیشن کے چیئرمین کی چھ ہفتوں میں تقرری کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای نے ایران اور پاکستان سپریم لیڈر پاکستان کے پاکستان کا فلسطین پر ایران کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف