کراچی میں 5 ماہ کے دوران اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں33 شہری قتل ہوئے، سربراہ ایس آئی یو
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اگرچہ آزاد اداروں کے ذریعے جمع کردہ اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری سے اب تک ڈاکوؤں نے 47 لوگوں کو قتل کیا ہے، لیکن ایک سینئر پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں مجموعی طور پر 33 افراد کو گولی مار کر قتل کیا گیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے سربراہ ایس ایس پی محمد شعیب میمن نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ریکارڈ کے مطابق اب تک اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں سے 23 مقدمات میں ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 10 مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹریٹ کرائم کے مقدمات کا سراغ لگانے کی شرح 70 فیصد ہے، ایس ایس پی شعیب میمن نے یہ بھی ذکر کیا کہ گزشتہ سال ایس آئی یو کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کسی بھی اسٹریٹ کرمنل کو عدالت سے ضمانت نہیں ملی۔
تاہم انہوں نے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا کہ شہر میں گزشتہ5 ماہ کے دوران اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔
ایس آئی یو چیف نے اعتراف کیا کہ منشیات کے مقدمات میں عدالتوں کے قیام کی کمی کی وجہ سے ملزمان کو ضمانت حاصل کرنے میں فائدہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے حال ہی میں اس معاملے پر غور کیا ہے اور منشیات فروشوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔
ایس ایس پی میمن نے بتایا کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کے بعد ایس آئی یو کو منشیات کے خلاف کارروائی کا ٹاسک دیا گیا، جس میں خاص طور پر آئس، ویڈ (چرس) اور کوکین شامل ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کیلیفورنیا سے ویڈ اسمگل کرنے والے ایک گروہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ حال ہی میں ایران سے حب کے ذریعے ویڈ اسمگل کرنے والے ایک اور گروہ کو بھی پکڑا گیا، اس کارروائی میں منشیات فروش سجاد کی گرفتاری عمل میں آئی، جس کے قبضے سے 1.
ایس ایس پی میمن نے بتایا کہ جون 2024 میں اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں شہری گلزار احمد کو مزاحمت پر قتل کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، اس واقعے میں ایک ڈاکو بھی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا ۔
ساحر حسن کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملزم کو چالان میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا تاہم ڈرگ کورٹس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملزم کو عدالت سے ضمانت ملی ہے، انہوں نے کہا کہ ساحر حسن کے کیس میں پولیس نے بینک منیجر سمیت 3 ملزمان کو نامزد کیا ہے، تاہم ملزمان کے روپوش ہونے کی وجہ سے ان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس ایس پی ایس آئی یو کرنے والے ملزمان کو کے مطابق بتایا کہ انہوں نے کیا کہ کیا ہے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔