Daily Sub News:
2026-07-24@11:00:19 GMT

ارتھنگ: فطرت کے لمس میں شفا

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

ارتھنگ: فطرت کے لمس میں شفا

ارتھنگ: فطرت کے لمس میں شفا WhatsAppFacebookTwitter 0 27 May, 2025 سب نیوز

تحریر سجاد بھٹی۔


برصغیر کی روایات میں زمین سے جڑت اور اس کے انسانی جسم اور روح پرمثبت اثرات کی بے شمار روایات ملتی ہیں۔زمین، جس پر ہم چلتے ہیں، جس سے ہم اناج حاصل کرتے ہیں، اور جس سے زندگی کی بقا ممکن ہے، صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ توانائی کا منبع بھی ہے۔ سائنس کی ترقی کے باوجود، انسان فطرت سے جڑنے کے فوائد کو دوبارہ دریافت کر رہا ہے۔ “ارتھنگ” یا “گراؤنڈنگ” اسی رجحان کا ایک عملی مظہر ہے، جو انسانی جسم اور زمین کے درمیان براہ راست رابطے کو فروغ دیتا ہے۔


ارتھنگ کیا ہے؟ارتھنگ ایک فطری عمل ہے، جس میں انسان ننگے پاؤں زمین پر چل کر، گھاس پر بیٹھ کر یا مٹی پر لیٹ کر خود کو زمین سے جوڑتا ہے۔ یہ تعلق صرف جسمانی نہیں، بلکہ توانائی کا ایک خاموش تبادلہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے ننھے منے منفی ذرّات (الیکٹرانز) ہمارے جسم میں داخل ہو کر اُن نقصان دہ مثبت ذرّات کو بے اثر کر دیتے ہیں، جو سوزش، ذہنی دباؤ اور بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ یوں انسان کو نہ صرف سکون ملتا ہے، بلکہ اس کی طبیعت میں توازن بھی پیدا ہوتا ہے۔


برصغیر، خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں، زمین کو ایک ماں کا درجہ حاصل ہے۔ “بھومی دیوی” کا تصور ہندو ثقافت میں زمین کو مقدس مانتا ہے۔ ہندوستانی عوام صدیوں سے ننگے پاؤں چلنے، مٹی میں بیٹھنے، اور زمینی توانائی سے جڑنے کو روحانی و جسمانی صحت کے لیے مفید سمجھتے آئے ہیں۔بابا بلھے شاہ، وارث شاہ اور دیگر صوفی شعرا نے بھی مٹی اور زمین کے ساتھ تعلق کو انسانی فطرت کے قریب قرار دیا۔
اسلام میں زمین کو عظمت حاصل ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میںسورت البقرہ کی آیت نمبر 22 میں ارشاد باری تعالی ہے۔
“جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی ، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقّرر نہ کرو” ۔


ابنِ سینا نے اپنی مشہور کتاب “القانون فی الطب” میں فطرت سے ہم آہنگ زندگی کو صحت کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق، انسان کی صحت صرف غذا اور دوا پر نہیں بلکہ عناصرِ فطرت، جیسے زمین، پانی، اور ہوا پر بھی منحصر ہے۔زکریا الرازی نے “الحاوی” جیسے طبی انسائیکلوپیڈیا میں مٹی کی شفا بخش خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ وہ مٹی کو زخم بھرنے، سوزش کم کرنے اور جسم کے توازن کو بحال کرنے کے لیے مفید سمجھتے تھے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ارتھنگ پر مختلف سائنسی تحقیقات کی گئی ہیں۔ ایک قابلِ ذکر تحقیق 2012 میں “Journal of Environmental and Public Health” میں شائع ہوئی جس کے مطابق ارتھنگ سےجسم میں سوزش کم ہوتی ہے،،دل کی دھڑکن میں بہتری آتی ہے،بلڈ پریشر میں توازن آتا ہے اور نا صرف نیند بہتر ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ڈاکٹر اسٹیفن سیناٹرا (Dr.

Stephen Sinatra)، جو کہ ایک معروف کارڈیالوجسٹ ہیں، نے ارتھنگ کو “قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ” قرار دیا ہے اور اسے دل کی صحت کے لیے مفید پایا ہے۔


آج کے جدید انسان نے کنکریٹ کی عمارتوں، اور برقی آلودگی کے درمیان اپنی زندگی قید کر لی ہے۔ ہم زمین سے دور ہو چکے ہیں، جس کا نتیجہ جسمانی و ذہنی بیماریوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ارتھنگ کوئی پیچیدہ طریقہ علاج نہیں بلکہ ایک سادہ طرزِ زندگی ہے۔ روزانہ صرف 20 سے 30 منٹ ننگے پاؤں گھاس یا مٹی پر چلنے سے آپ اپنے جسم کو فطرت کی شفا بخش توانائی سے جوڑ سکتے ہیں۔
جہاں سائنسی تحقیق ہمیں ارتھنگ کے طبی فوائد سے روشناس کرتی ہے، وہیں برصغیر کی صدیوں پرانی روایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زمین جو نہ صرف ہمیں زندگی دیتی ہے بلکہ ہماری صحت کا تحفظ بھی کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کی مٹی سے محبت کی جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردوست ممالک کے دورے: وزیراعظم ایران کے بعد آذربائیجان پہنچ گئے قومی وقار: 28 مئی کی میراث  جوہری بازدارندگی اور سات مئی : جنوبی ایشیا کے لیے سچائی کی گھڑی پی۔ٹی۔آئی  اور ‘معمولِ نو ‘  (NEW NORMAL) معصومیت کا قتل: پاکستان میں بھارت کی پراکسی جنگ گرمی کی لہر فطرت کا انتقام یا انسانوں کی لاپروائی؟ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پھنسی لڑکیاں: جدید سوچ، پرانے بندھن TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی