اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یومِ تکبیر کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مئی کا مہینہ پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب ہے، جب وطن عزیز نے ناقابل تسخیر دفاع کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ 28 مئی قومی غیرت، خودمختاری اور دفاع کی علامت ہے، اور اس دن کیے گئے ایٹمی دھماکے نہ صرف پاکستان کی تکنیکی مہارت بلکہ قومی اتحاد کا بھی مظہر ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی امن پر مبنی ہے، لیکن اگر دشمن نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور دیگر سائنسدانوں کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ میاں نواز شریف کا تاریخ ساز اقدام تھا، جو پاکستان کی خود انحصاری اور دفاعی خودکفالت کی بنیاد بن گیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ یومِ تکبیر ہمارے قومی عزم، اتحاد اور قربانیوں کی عکاس ہے۔ انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا عملی ثبوت ہے۔انہوں نے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بری، بحری و فضائی افواج نے ہمیشہ جرات مندانہ دفاع کیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے شہداء اور دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دینے والوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پاکستان پر حملہ کرنے والوں کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ پاکستان نہ صرف عسکری لحاظ سے بلکہ قومی اتحاد کے ذریعے بھی ناقابل شکست ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اداروں میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے، جو قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے گی۔یومِ تکبیر کو قومی ایثار، سلامتی اور عزمِ نو کی یاد دہانی قرار دیتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، باوقار اور ناقابل تسخیر ریاست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28 مئی کے ساتھ 10 مئی کے اضافے نے پاکستان کے دفاع اور سلامتی کو نئی روح بخشی ہے۔آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یومِ تکبیر کے پیغام کو زندہ رکھا جائے گا اور پاکستان کو مزید محفوظ و خودمختار بنایا جائے گا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سردار ایاز صادق نے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کہ پاکستان دفاع کی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی