ٹرمپ کے دیگرممالک پرعائد تجارتی محصولات غیرقانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 مئی2025ء)امریکا کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد کئے جانے والے تجارتی محصولات کو غیر قانونی قرار دے دیا جبکہ امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر دی ۔برطانوی ٹی وی کے مطابق امریکا کی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وائٹ ہاوس کی جانب سے ٹیرف لگانے کے لئے استعمال کیا جانے والا قانون صدر کو یکطرفہ طور پر دیگر ممالک پر درآمدی محصولات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ امریکی آئین کے مطابق صرف کانگریس ہی کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر فیصلے کرنے کا اختیار ہے، صدر معیشت کو تحفظ دینے کے لئے کانگریس کے اس اختیار کو ختم نہیں کر سکتے۔(جاری ہے)
عدالت نے امریکا کی جانب سے الگ سے چین، میکسیکو اور کینیڈا پر لگائے گئے محصولات کو بھی کالعدم قرار دے دیا ۔ امریکی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ ان ممالک سے امریکا میں منشیات اور غیر قانونی تارکینِ وطن داخل ہوتے ہیں۔
یہ مقدمہ لبرٹی جسٹس سینٹر کی توسط سے پانچ ایسی کمپنیوں نے دائر کیا تھا جو ان ممالک سے اشیا درآمد کرتی ہیں جن پرصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ٹیرف عائد کئے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔وائٹ ہاس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری کش ڈیسائی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ کرنا غیر منتخب ججوں کا کام نہیں کہ قومی ہنگامی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو سب سے پہلے رکھنے کا وعدہ کیا تھا اور انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے اور ملکی عظمت بحال کرنے کے لئے ہر سطح پر انتظامی طاقت کو استعمال کرنے کے لئے پرعزم ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انتظامیہ نے کے لئے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی