یاسر حسین نے اپنی فیملی پلاننگ کا سرِعام اظہار کردیا، کتنے بچے چاہئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
پاکستانی شوبز کے بے باک اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین ایک بار پھر اپنے دلچسپ اور چونکا دینے والے بیان کی بدولت خبروں کی زینت بن گئے۔ اس بار موضوع نہ کوئی فلم تھا، نہ ڈرامہ، بلکہ خود یاسر حسین کا فیملی پلاننگ کا خواب... اور وہ بھی ایسا کہ سن کر سب حیران رہ گئے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران یاسر حسین نے نہ صرف بچوں سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر ان کے 12 بچے ہوں تو انہیں ذرّہ برابر بھی اعتراض نہیں ہوگا۔ بلکہ انہوں نے تو اس خواہش کو فخر کے ساتھ بیان کیا، جیسے کوئی ایوارڈ جیتنے کی بات ہو۔
پروگرام کے میزبان تابش ہاشمی سے گفتگو کرتے ہوئے یاسر حسین نے اپنے دل کی بات کہتے ہوئے بتایا کہ وہ خود ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، 11 بہن بھائیوں میں سے ایک۔ اور بچپن کی خوشگوار یادیں آج بھی ان کے دل کے قریب ہیں۔ ایک چھوٹے سے گھر میں، محدود وسائل کے باوجود جس خوشی، محبت اور تربیت کے ساتھ وہ پلے بڑھے، وہی تجربہ وہ اپنے بچوں کو بھی دینا چاہتے ہیں۔
یاسر کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ بچوں کو وقت دیں، تعلیم دیں اور ان کی تربیت پر توجہ دیں، تو چاہے خاندان بڑا ہو یا چھوٹا، سب کچھ ممکن ہے۔‘‘ وہ آج بھی ایسے کئی خاندانوں کو جانتے ہیں جہاں درجن بھر بچے نہ صرف پل رہے ہیں بلکہ عزت سے جی رہے ہیں۔
جب میزبان نے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ کیا وہ واقعی 12 بچوں کے خواہشمند ہیں، تو یاسر نے فوراً مسکرا کر جواب دیا، ’’آپ کے منہ میں گھی شکر!‘‘
یاد رہے کہ یاسر حسین نے 2019 میں اداکارہ اقراء عزیز سے شادی کی تھی، جو ان سے 11 سال چھوٹی ہیں۔ ان کے درمیان رشتہ 2018 میں شروع ہوا اور 2021 میں ان کے ہاں بیٹے کبیر حسین کی پیدائش ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یاسر حسین نے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن